ملفوظات (جلد 1) — Page 294
دھوپ ہو، جاڑا ہو، دیہات کے راستے خراب ہوں کوئی عذر سنا نہیں جاتا اور تنخواہ پوچھو تو پانچ روپے۔اور حکام بالا دست کا معاملہ اس کے بالکل بر خلاف ہے۔رہبانیت معرفتِ تامہ کا ذریعہ نہیں ہے اس قانون سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون بھی اپنے برگزیدوں سے ایسا ہی ہے۔خطرناک ریاضتیں کرنا اور اعضاء اور قویٰ کو مجاہدات میں بے کار کر دینا محض نکمی بات اور لا حاصل ہے۔اسی لئے ہمارے ہادی کامل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: لَا رَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ یعنی جب انسان کو صفت اسلام (گردن نہادن برحکم خدا و مواقفت تامہ بمقادیر الٰہیہ) میسر آجائے، تو پھر رہبانیت یعنی ایسے مجاہدوں اور ریاضتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔(اس کے بعد سادھو صاحب تشریف لے گئے اور کھانا رکھا گیا۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ) یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کو نہیں رکھا۔اس لئے کہ وہ معرفت تامہ کا ذریعہ نہیں ہے۔۷۰؎ ۱۰؍ اگست۱۸۹۹ء سے قبل دنیا کی خوشامد حضرت مولوی عبدالکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں میں نے بارہا اپنے محبوب مرشد سید الاولیا عیسیٰ موعود علیہ السلام کی زبان مبارک سے سنا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔ہم اس پر قادر ہیں کہ ایسی تقریریں کریں اور ایسی تحریریں شائع کریں کہ لوگوں کی مصطلح صُلح کُل کے ڈھانچہ میں ڈھلی ہوئی ہوں اور سب قومیں علی اختلاف المشارب خوش ہوجاویں اور حکام و رعایا میں سے کسی کو بھی کبھی اُن پر نکتہ چینی کا موقع نہ مل سکے مگر اس خسیس دنیا کو خوش کرکے اپنے خدا کی دھتکار کی طاقت ہم کہاں رکھ سکتے ہیں۔۷۱؎