ملفوظات (جلد 1) — Page 275
بعض باتیں اپنی طرف سے کہتا تو ہم شاہ رگ سے پکڑ لیتے۔پھر کسی اور کی کیا خصوصیت ہو سکتی ہے؟ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر الہام کا افترا کرنے والا کبھی بھی مہلت نہیں پا سکتا۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر یہ ہمارا سلسلہ خدائے تعالیٰ کا قائم کردہ نہیں ہے تو کسی قوم کی تاریخ سے ہم کو پتا دو کہ خدائے تعالیٰ پر کسی نے افترا کیا ہو اور پھر اسے مہلت دی گئی ہو۔ہمارے لئے تو یہ معیار صاف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ۲۳ سال تک کا ایک دراز زمانہ ہے۔اس صادق اور کامل نبی کے زمانہ سے قریباً ملتا ہوا زمانہ اللہ تعالیٰ نے اب تک ہم کو دیا۔کیونکہ براہین کی اشاعت پر بیس سال ہولئے جو ناعاقبت اندیش معترضوں کے نزدیک افترا کا پہلا زمانہ ہے۔اب ہم تو ایک مسلّم صادق بلکہ جملہ صادقوں کے سرتاج صادق کے زمانہ سے ملتا ہوا زمانہ پیش کرتے ہیں اور یہ ظالم اب تک بھی کہے جاتے ہیں کہ جھوٹ ہے۔افسوس ہماری تکذیب کے خیال میں یہ لوگ یہاں تک اندھے ہو گئے ہیں کہ ان کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ اس انکار کی زد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیسی پڑتی ہے۔کیونکہ اگر بیس بائیس سال تک بھی خدا کسی مفتری کو مدد دے سکتا ہے تو پھر مجھے تو تعجب ہی آتا ہے۔نہیں بلکہ دل کانپ اٹھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر یہ کیا دلیل پیش کریں گے؟ ایک مسلمان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے متبع کے منہ سے جب وہ اتنا دراز عرصہ ایک مدعی کو مہلت پاتے ہوئے دیکھ لے کبھی یہ نہیں نکل سکتا کہ جھوٹا اور کاذب بھی اس قدر عرصہ دراز کی مہلت پا لیتا ہے۔اگر اور کوئی بھی نشان اور دلیل ایسے مدعی کی صداقت کی نہ ملے تب بھی ایک سچے مسلمان کو حسن ظن اور ایمانداری کے رو سے لازم آتا ہے کہ انکار نہ کرے کیونکہ اس کا زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے مشابہ ہو گیا ہے۔اگر کوئی عیسائی کہے کہ مفتری کو مہلت مل سکتی ہے تو وہ اس امر کا ثبوت دے مگر مسلمان تو ایسا کہہ ہی نہیں سکتا۔پس اب ہمارے مخالف بتلائیں کہ ایک کاذب دجال، مفتری علی اللہ طرز استدلال نبوت میں شریک ہو سکتا ہے؟ ماننا پڑے گا کہ ہر گز نہیں۔پھر وہ ہمارے دعوے کو سوچیں اور اس زمانہ پر غور کریں جو استدلالِ نبوت کا زمانہ ہے۔غرض ہر پہلو میں بہت سی باتیں ہیں جو سوچنے والے کو مل سکتی ہیں اور ایک دور اندیش ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔۶۱؎