ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 267

رکھنا چاہیے اور چونکہ عام طور پر اکثر لوگ رکھ لیتے ہیں، اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے تو کوئی حرج نہیں مگر عِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔اس پر مولوی نور الدین صاحبؓ نے فرمایا کہ’’یوں بھی توانسان کو مہینے میں کچھ روزے رکھنے چاہئیں۔ہم اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ایک موقع پر حضرت اقدسؑ نے بھی فرمایا تھا کہ ’’سفر میں تکالیف اٹھا کر جو انسان روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے۔اس کو اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا۔یہ غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔‘‘ ۵۳؎ ۲۷ ؍جنوری ۱۸۹۹ء بعد نماز صبح روانگی کا حکم ہوا۔جب کارخانہ (دھاریوال) کے قریب سے گزرے تو اس کے متعلق ذکر میں فرمایا۔اس کو کسی وقت دیکھنا چاہیے۔دیکھی ہوئی چیز کچھ کام ہی دیتی ہے۔ایک شخص نے کہا کہ حضرت میں نے ایک بار دیکھا، تو مجھے خدا تعالیٰ کی قدرت پر عجیب جوش آیا اور جب تک میں نے چار رکعت نماز نہ پڑھ لی صبر نہ آیا۔حضرت نے فرمایا۔اصل بات یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس لئے ہیں کہ وہ اپنا جلوہ دکھا رہا ہے۔دیکھو کیڑے تک کو کس قدر طاقتیں دیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تو ساری طاقتیں اور قوتیں ہیں۔حضور کے لئے خیمہ چونکہ نہر پر لگایا گیا تھا۔نہر کو دیکھ کر اور اس کے ارد گرد درختوں کے نظارہ کو دیکھ کر فرمایا کہ بہت اچھی جگہ ہے۔۵۴؎