ملفوظات (جلد 1) — Page 245
گئی ہے اس کو میں نے منہ سے نکالا اور وہ بہت صاف تھا اور اسے ہاتھ میں رکھا۔پھر فرمایا کہ خواب میں دانت اگر ہاتھ سے گرایا جاوے تو وہ منذر ہوتا ہے ورنہ مبشر۔زاں بعد محمد صادق نے اپنے دو خواب سنائے جن میں سے ایک میں نور کے کپڑوں کا ملنا اور دوسرے میں حضرت اقدسؑ کے دیئے ہوئے مضمون کا خوشخط نقل کرنا تھا۔جس کی تعبیر حضرت اقدسؑ نے کامیابی مقاصد فرمائی۔اس کے بعد حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ تائید الٰہی سے مضامین کا دل پر نزول تائیداتِ الٰہیہ ایک تو بیّن اور ظاہر طور پر ظہور پذیر ہوتی ہیں اور عام لوگ ان کو دیکھ سکتے ہیں مگر بعض مخفی تائیدات ایسی ہوتی ہیں جن کے لئے میری سمجھ میں کوئی قاعدہ نہیں آتا کہ عوام النّاس کو کیوں کر دکھا سکوں۔مثلاً یہی عربی تصنیف ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ عربی ادب میں مجھے کہاں تک دسترس ہے لیکن جب میں تصنیف کا سلسلہ شروع کرتا ہوں تو یکے بعد دیگرے اپنے اپنے محل اور موقع پر موزوں طور پر آنے والے الفاظ القا ہوتے جاتے ہیں۔اب کوئی بتلائے کہ ہم کیوں کر اس تائید الٰہی کو دکھا سکیں کہ وہ کیونکر سینہ پر الفاظ نازل کرتا ہے۔اور دیکھو اس ایام الصلح میں اکثر مضامین ایسے آئے ہیں جن کا میری پہلی تصنیفات میں نام تک نہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس سے پہلے وہ کبھی ذہن میں نہ گزرے تھے لیکن اب وہ ایسے طور پر آکر قلب پر نازل ہوئے کہ سمجھ میں نہیں آسکتا جب تک خود تائید الٰہی شامل حال ہو کر اس کو اس قابل نہ بنا دیوے اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو وہ ایسے بندوں پر کرتا ہے جن سے کوئی کام لینا ہوتا ہے۔یہ بھی ایک سچی بات ہے کہ تصنیفات کے لئے جب تک صحت اور فراغت نہ ہو یہ کام نہیں ہوسکتا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ان لوگوں ہی کو ملتا ہے جن سے وہ کوئی کام لینا چاہتا ہے۔پھر ان کو یہ سب سامان جو تصنیف کے لئے ضروری ہوتے ہیں یکجا جمع کر دیتا ہے۔