ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 197

کی اعلیٰ درجے کی خوبیاں خود بخود دوسرے کو عمل کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔دیکھو! حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خلوص سے تھی۔ایسا ہی رستم و اسفند یار کی بہادری کے فسانے عام زبان زد ہیں اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خلوص سے تھے۔میرا ایمان اور مذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا اس کی نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم الشان ہوں لیکن وہ ریا کاری کے ملمع سے خالی نہیں ہوتے۔لیکن چونکہ ان میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وہ قابل قدر جوہر ہے جو ہر جگہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے بایں ہمہ ملمع سازی و ریاکاری وہ عزت سے دیکھے جاتے ہیں۔خواجہ صاحب نے میرے پاس ایک نقل بیان کی تھی اور خود میں نے بھی اس قصہ کو پڑھا ہے کہ سر فلپ سڈنی ملکہ الزبتھ کے زمانے میں قلعہ زٹفن ملک ہالینڈ کے محاصرہ میں جب زخمی ہوا، تو اس وقت عین نزع کی تلخی اور شدت پیاس کے وقت جب اس کے لئے ایک پیالہ پانی کا جو وہاں بہت کمیاب تھا مہیا کیا گیا تو اس کے پاس ایک اور زخمی سپاہی تھا جو نہایت پیاسا تھا۔وہ سر فلپ سڈنی کی طرف حسرت اور طمع کے ساتھ دیکھنے لگا۔سڈنی نے اس کی یہ خواہش دیکھ کر وہ پانی کا پیالہ خود نہ پیا بلکہ بطور ایثار یہ کہہ کر اس سپاہی کو دے دیا کہ ’’تیری ضرورت مجھ سے زیادہ ہے‘‘ مرنے کے وقت بھی لوگ ریا کاری سے نہیں رکتے۔ایسے کام اکثر ریا کاروں سے ہو جاتے ہیں جو اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ والے انسان ثابت کرنا یا دکھانا چاہتے ہیں۔غرض کوئی انسان ایسا نہیں ہے کہ اس کی ساری باتیں بری حالت کی اچھی ہوں۔لیکن سوال یہ ہے کہ انسان اچھی باتوں کی کیوں پیروی نہیں کرتے؟ میں اس کے جواب میں یہی کہوں گا کہ اصل بات یہ ہے کہ انسان فطرتاً کسی بات کی پیروی نہیں کرتا جب تک کہ اس میں کمال کی مہک نہ ہو اور یہی ایک سِرّ ہے جو اللہ تعالیٰ ہمیشہ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرتا رہا ہے اور خاتم النبیینؐ کے بعد مجدّدین کے سلسلے کو جاری رکھا ہے کیونکہ یہ لوگ اپنے عملی نمونہ کے ساتھ ایک جذب اور اثر کی قوت رکھتے ہیں اور نیکیوں کا کمال ان کے وجود میں نظر آتا ہے اس لئے کہ انسان بالطبع کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے۔اگر انسان کی فطرت میں یہ قوت نہ ہوتی تو انبیاء علیہم السلام کے