ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 195

پر تو وہ رزق ہے جس کو اللہ سے کوئی واسطہ نہیں رہتا بلکہ یہ رزق انسان کو خدا سے دور ڈالتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کرکے فرمایا ہے لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ (المنافقون:۱۰) تمہارے مال تم کو ہلاک نہ کر دیں اور رزق اصطفا کے طور پر وہ ہوتا ہے جو خدا کے لئے ہو۔ایسے لوگوں کا متولّی خدا ہو جاتا ہے اور جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے وہ اس کو خدا ہی کا سمجھتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کر دکھاتے ہیں۔صحابہؓ کی حالت کو دیکھو! جب امتحان کا وقت آیا تو جو کسی کے پاس تھا اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ سب سے اول کمبل پہن کر آگئے۔پھر اس کمبل کی جزا بھی اللہ تعالیٰ نے کیا دی کہ سب سے اول خلیفہ وہی ہوئے۔غرض یہ ہے کہ اصلی خوبی، خیر اور روحانی لذّت سے بہرہ ور ہونے کے لئے وہی مال کام آسکتا ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کیا جائے۔۲۶؎ ۳۰ ؍ جنوری ۱۸۹۸ء دنیا اور دنیوی خوشیوں کی حقیقت دنیا اور دنیا کی خوشیوں کی حقیقت لہو و لعب سے زیادہ نہیں۔یا تو وہ عارضی اور چند روزہ ہیں اور ایسی ہی ہیں اور ان خوشیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خدا سے دور جا پڑتا ہے۔مگر خدا کی معرفت میں جو لذّت ہے وہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو نہ آنکھوں نے دیکھی اور نہ کانوں نے سنی نہ کسی اور حس نے اس کو محسوس کیا ہے۔وہ ایک چیر کر نکل جانے والی چیز ہے۔ہر آن ایک نئی راحت اس سے پیدا ہوتی ہے جو پہلے نہیں دیکھی ہوتی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ انسان کا ایک خاص تعلق ہے۔اہل عرفان لوگوں نے بشریت اور ربوبیّت کے جوڑہ پر بہت لطیف بحثیں کی ہیں۔اگر بچّے کا منہ پتھر سے لگائیں تو کیا کوئی دانشمند خیال کر سکتا ہے کہ اس پتھر میں سے دودھ نکل آئے گا اور بچہ سیر ہو جائے گا۔ہرگز نہیں۔اسی طرح پر جب تک انسان خدا تعالیٰ کے آستانہ پر نہیں گرتا اس کی روح ہمہ نیستی ہو کر ربوبیت سے تعلق پیدا نہیں کرتی اور نہیں کر