ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 193

سے ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔قصہ مختصر دعا سے، توبہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔جماعت کے لئے اخلاقی نصاب اخلاقی حالت ایسی درست ہو کہ کسی کو نیک نیتی سے سمجھانا اور غلطی سے آگاہ کرنا ایسے وقت پر ہو کہ اسے برا معلوم نہ ہو۔کسی کو استخفاف کی نظر سے نہ دیکھا جاوے۔دل شکنی نہ کی جاوے۔جماعت میں باہم جھگڑے فساد نہ ہوں۔دینی غریب بھائیوں کو کبھی حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔مال و دولت یا نسبی بزرگی پر بے جا فخر کر کے دوسروں کوذلیل اور حقیر نہ سمجھو۔خدا تعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو متّقی ہے چنانچہ فرمایا ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (الـحجرات:۱۴) دوسروں کے ساتھ بھی پورے اخلاق سے کام لینا چاہیے۔جو بداخلاقی کا نمونہ ہوتا ہے وہ بھی اچھا نہیں۔ہماری جماعت کے ساتھ لوگ مقدمہ بازی کا صرف بہانہ ہی ڈھونڈتے ہیں۔لوگوں کے لئے ایک طاعون ہے۔ہماری جماعت کے لئے دو طاعون ہیں۔اگر کوئی جماعت میں سے ایک شخص برائی کرے گا تو اس ایک سے ساری جماعت پر حرف آئے گا۔دانش مندی، حلم اور در گزر کے ملکہ کو بڑھاؤ۔نادان سے نادان کی باتوں کا جواب بھی متانت اور سلامت روی سے دو۔یاوہ گوئی کا جواب یاوہ گوئی نہ ہو۔میں جانتا ہوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم میں بھی کچھ ایسی ہی حکمت عملی تھی کہ اگر ایسا نہ کرتے تو روز ماریں کھاتے پھرتے۔رومیوں کی سلطنت تھی۔یہود کے فقیہ اور فریسی اس کے مقرب تھے۔اس وقت اگر وہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرا گال نہ پھیرتے تو روز ماریں کھایا کرتے اور روز مقدمے ہوتے۔باوجودیکہ وہ ایسی نرم تعلیم دیتے تھے پھر بھی یہود انہیں دم نہ لینے دیتے تھے۔اس وقت کی موجودہ حالت انجیل کی تعلیم ہی کو چاہتی ہوگی۔اس وقت ہماری جماعت کی حالت بھی قریباً ویسی ہی ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ مارٹن کلارک عیسائی کے مقدمہ میں محمد حسین نے بھی اسی کی گواہی دی۔اب سمجھ لو کہ قوم سے بھی کوئی امید نہیں ہے۔رہی گورنمنٹ اس کو بھی بدظن کیا جاتا ہے اور گورنمنٹ کسی حد تک معذور بھی ہے اگر خدا نخواستہ وہ بد ظن ہو کیونکہ وہ عالم الغیب نہیں ہے۔اس لئے