ملفوظات (جلد 1) — Page 164
تو صاف نہیں رہ سکتی ہیں۔ہم ایک شیعہ اُستاد سے پڑھا کرتے تھے اور وہاں کتے پیشاب و پاخانہ پھر جاتے تھے اور مجھے یاد نہیں ہے کہ کسی نے کبھی وہاں نماز پڑھی ہو۔شیعہ یہی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے امام حسینؓ اور اہل بیت شہید ہوچکے ہیں۔اُن کے غم میں رو لینا اور ماتم کر لینا بس یہی کافی ہے۔جنت کے لئے اَور کسی عمل کی بجز اس کے ضرورت نہیں اور ایسا ہی عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح کا خون ہمارے لئے مُنجی ہوا۔اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر تمہارے گناہوں پر بھی باز پُرس ہونی ہے اور تمہیں بھی ان کی سزا بھگتنی ہے تو پھر یہ نجات کیسی ہے؟ اس اُصول کا اثر درحقیقت بہت بُراپڑا ہے۔اگر یہ اصول نہ ہوتا تو یورپ کے ملکوں میں اس کثرت سے فسق و فجور نہ ہوتا اور اس طرح پر بدکاری کا سیلاب نہ آتا جیسے اب آیا ہوا ہے۔لنڈن اور پیرس کے ہوٹلوں اور پارکوں میں جاکر دیکھو کیا ہو رہا ہے اور ان لوگوں سے پوچھو جو وہاں سے آتے ہیں۔آئے دن اخبارات میں ان بچوں کی فہرستیں جن کی ولادت ناجائز ولادت ہوتی ہے شائع ہوتی ہیں۔کفّارہ قانونِ قدرت کے خلاف ہے ہم تو اُصول ہی کو دیکھیں گے۔ہمارے اصول میں تو یہ لکھا ہے کہ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ (الزلزال:۸) اب اس کا اثر تم خود سوچ لو گے کیا پڑے گا؟ یہی کہ انسان اعمال کی ضرورت کو محسوس کرے گا اور نیک عمل کرنے کی سعی کرے گا۔برخلاف اس کے جب یہ کہا جاوے گا کہ انسان اعمال سے نجات نہیں پاسکتا تو یہ اُصول انسان کی ہمت اور سعی کو پست کردے گا اور اس کو بالکل مایوس کر کے بے دست و پا بنا دے گا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفّارہ کا اُصول انسانی قویٰ کی بھی بے حرمتی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی قویٰ میں ایک ترقی کا مادہ رکھا ہے لیکن کفّارہ اس کو ترقی سے روکتا ہے۔ابھی مَیں نے کہا ہے کہ کفّارہ کا اعتقاد رکھنے والوں کے حالاتِ آزادی اور بے قیدی کو جو دیکھتے ہیں تو یہ اسی اصول کی وجہ سے ہے کہ کتّے اور کتیوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں۔لنڈن کے ہائیڈو پارک میں علانیہ بدکاریاں ہوتی ہیں اور حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں۔پس ہم کو صرف قیل وقال تک ہی محدود نہ رکھنا چاہیے بلکہ اعمال ساتھ ہونے چاہئیں۔جو اعمال کی ضرورت