ملفوظات (جلد 1) — Page 162
کہ گناہ کیا جاوے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ اُصول کا اثر بہت پڑتا ہے۔دیکھو! ہندوؤں کے نزدیک گائے بہت پَـوِتَّـرْ اور قابلِ تعظیم ہے اور اُس کا اثر ان میں اس حد تک ہے کہ اُس کا پیشاب اور گوبر بھی پوتر اور پوتر کرنے والا اُن میں قرار دیا گیا ہے اور گائے کے متعلق اس قدر جوش ان میں ہے جس کی کچھ بھی حد نہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ امر اُن میں بطور اُصول داخل کیا گیا ہے۔یاد رکھو اصول بطور ماں کے ہوتے ہیں اور اعمال بطور اولاد کے۔جب مسیح کفارہ ہوگیا ہے اور اس نے تمام گناہ ایمان لانے والوں کے اُٹھالئے پھر کیا وجہ ہے کہ گناہ نہ کیے جاویں؟ تعجب کی بات ہے کہ عیسائی جب کفارہ کا اُصول بیان کیا کرتے ہیں تو اپنی تقریر کو خدا تعالیٰ کے رحم اور عدل سے شروع کیا کرتے ہیں مگر مَیں پوچھتا ہوں کہ جب زید کے بدلے پھانسی بکر کو ملی تو یہ کون سا انصاف اور رحم ہے؟ جب یہ اصول قرار دے دیا کہ سب گناہ اُس نے اُٹھالئے اور بدوں پیدا ہونے کے بھی گناہ اٹھا لئے پھر گناہ نہ کرنے کے لئے کون سا امر مانع ہو سکتا ہے۔اگر یہ ہدایت ہوتی کہ اُس وقت کے عیسائیوں کے لئے کفارہ ہوئے ہیں تو یہ اور بات تھی مگر جب یہ مان لیا گیا ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والوں کے گناہوں کی گٹھڑی یسوع اُٹھا کر لے گیا اور اس نے سزا بھی اُٹھالی۔پھر گنہگار کو پکڑنا کس قدر ظلم ہے۔اوّل ظلم تو بے گناہ کو گنہ گار کے بدلے سزا دینا ہی ظلم ہے اور پھر دُوسرا ظلم یہ ہے کہ اول گنہ گاروں کے گناہوں کی گٹھڑی یسوع کے سر پر رکھ دی اور گنہ گاروں کو مُژدہ سنا دیا کہ تمہارے گناہ اُس نے اُٹھا لیے اور پھر وہ گناہ کریں تو پکڑے جاویں۔یہ عجیب دھوکا ہے جس کا جواب عیسائی کبھی کچھ نہیں دے سکیں گے۔کفّارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہ پر دلیر ہو جاتا ہے اگر کوئی یہ کہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے انسان گناہ کی زندگی سے نجات پاسکتا ہے اور گناہ کی قوت اس میں نہیں رہتی تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اس لئے کہ یہ اُصول ہی اپنی جڑھ میں گناہ رکھتا ہے۔گناہ سے بچنے کی قوت پیدا ہوتی ہے مؤاخذۂ الٰہی کے خوف سے لیکن وہ مواخذہ کا خوف کیوں کر ہوسکتا ہے جب کہ یہ