ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 365

آخری زمانہ میں امت بگڑ جائے گی اور جس طرح حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانہ میں یہود کی حالت تھی وہی حالت مسلمانوں کی موعود مسیح محمدی کے زمانہ میں ہوجائے گی۔غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ (الفاتـحۃ:۷) میں اسی کی طر ف تواشارہ ہے خود مسلمانوں سے پوچھ لو کہ آخر ی زمانہ کے مسلمانوں اور علما ء کا کیا حال لکھا ہے؟ یہی کہ لکھا ہے کہ ایسے ہو جاویں گے کہ قرآ ن پڑھیں گے مگر قرآن حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ایمان صرف زبانوں پر ہی ہو گا۔اب صاف ہے کہ ایسے وقت میں ان کی اصلاح کے واسطے جوشخص آوے گا وہ بھی مناسب حال ہی آوے گا اورضرورت اورکام کے لحاظ سے اس کانام بھی مسیح ہوگا۔کیا یہ ظاہر نہیں کہ دین مَرگیا۔تو پھر جب کسی آدمی کا عزیز دوست حتی کہ پالتو کتا، بلّی، ہی مَرجائے تو اسے رنج ہوتا ہے اور افسوس آتا ہے توکیا وجہ کہ دین کی موت کا کسی کو رنج نہیں اور کسی کے دل میں ماتم نہیں نظر آیا؟ یہ بھی مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اورکہ میں نے نیا دین بنالیا ہے یا میں کسی الگ قبلہ کی فکر میں ہوں، نماز میں نے الگ بنائی ہے یا قرآن کو منسوخ کرکے اور قرآن بنالیا ہے۔سواس تہمت کے جواب میں مَیں بجز اس کے کہ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ(اٰل عـمرانـ:۶۲) کہوں اور کیا کہوں ؟ مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ موجود ہ مفاسد کے باعث خدا نے مجھے بھیجا ہے اور میں اس اَمر کا اخفا نہیں کر سکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطا کیا گیا ہے اورخدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے۔اسی کانام نبوت ہے مگر حقیقی نبوت نہیں۔نَبَأٌ ایک عربی لفظ ہے جس کے معنے ہیںخبر کے۔اب جو شخص کوئی خبر خدا سے پاکر خلق پر ظاہر کرے گا اس کو عربی میں نبی کہیں گے۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہوکر کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔یہ تونزاع لفظی ہے۔کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے دیکھو! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قُوْلُوْا اِنَّہٗ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَاتَقُوْلُوْا لَانَبِیَّ بَعْدَہٗ اس اَمر کی صراحت کرتا ہے نبوت اگر اسلام میں موقوف ہوچکی ہے