ملفوظات (جلد 10) — Page 342
نہیں گوکہ قصہ کے رنگ میں آگیا ہے۔اس کی حقیقت یہی ہے کہ اس وقت کے لوگ علوم روحانی کے نہ جاننے کی وجہ سے نادان بچوں کی طر ح تھے۔ایسے باریک اور روحانی علوم کے سمجھانے کے واسطے ان کے مناسب حال استعاروں سے کام لینا اور مثالوں کے ذریعہ سے اصل حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنا ضروری تھا۔اسی واسطے قرآن شریف نے بہشت کی حقیقت سمجھانے کے واسطے اس طریق کو اختیار کیا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ (مُـحمّد :۱۶) یہ ایک مثال ہے نہ کہ حقیقت۔قرآن شریف کے ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ وہ جنت کوئی اَور ہی چیز ہے اور حدیث میں صاف یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ ان ظاہری جسمانی دنیوی امور پر نعماء جنت کا قیاس نہ کیا جاوے کیونکہ وہ ایسی چیز ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی وغیرہ۔مگر وہ باتیں جن کی مثال دے کر جنت کی نعماء کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ توہم دیکھتے بھی ہیں اورسنتے بھی ہیں ایک مقام پر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ(البقرۃ :۲۶) اس آیت میں ایمان کو اعمال صالحہ کے مقابل پر رکھا ہے جنّات اورانہار۔یعنی ایمان کا نتیجہ توجنت ہے اور اعمال صالحہ کا نتیجہ انہار ہیں۔پس جس طرح باغ بغیر نہر اورپانی کے جلدی برباد ہوجانے والی چیز ہے اوردیرپا نہیں اسی طرح ایمان بے عمل صالح بھی کسی کام کا نہیں۔پھر ایک دوسری جگہ پر ایمان کو اشجار (درختوں )سے تشبیہ دی ہے اورفرمایا ہے کہ وہ ایمان جس کی طرف مسلمانوںکو بلایا جاتا ہے۔وہ اشجار ہیںاور اعمال صالحہ ان اشجار کی آبپاشی کرتے ہیں۔غرض اس معاملہ میں جتنا جتنا تدبّر کیا جاوے اسی قدر معارف سمجھ میں آویں گے جس طرح سے ایک کسان کا شتکارکے واسطے ضروری ہے کہ وہ تخمریزی کرے۔اسی طرح روحانی منازل کے کاشتکار کے واسطے ایمان جو کہ روحانیات کی تخم ریزی ہے ضروری اورلازمی ہے اور پھر جس طرح کاشتکار کھیت یا باغ وغیر ہ کی آبپاشی کرتا ہے اسی طرح روحانی باغ ایمان کی آبپاشی کے واسطے اعمال صالحات کی ضرورت ہے۔یاد رکھو کہ ایمان بغیر اعمال صالحہ کے ایسا ہی بیکار ہے جیساکہ ایک عمدہ باغ بغیر نہر یا دوسرے ذریعہ آبپاشی کے نکما ہے۔درخت خواہ کیسے ہی عمدہ قسم کے ہوں اور اعلیٰ قسم کے پھل لانے