ملفوظات (جلد 10) — Page 334
کے واسطے مہیا کیے ہیں۔ان کا خیال کرکے اس کا شکریہ کرے اور غور کرے کہ اتنے قویٰ اس کو کس نے عطا کئے ہیں؟ انسان شکر کرے یا نہ کرے۔یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔مگر اگر فطرت سلیم رکھتا ہے اور سوچ کر دیکھے گا تو اس کو معلوم ہو گا کہ کیا ظاہر ی او ر کیا باطنی ہر قسم کے قویٰ اللہ تعالیٰ ہی کے دئیے ہوئے اور اسی کے تصرّف میں ہیں۔چاہے تو ان کو شکر کی وجہ سے ترقی دے اور چاہے تو ناشکری کی وجہ سے ایک دم میں ضائع کر دے۔غور کا مقام ہے کہ اگر یہ تمام قویٰ خود انسان کے اپنے اختیار اور تصرّف میں ہوں تو کون ہے کہ اس کا مَرنے کو جی چاہے۔انسان کا دل دنیا کی محبت کی گرمی کی وجہ سے آخرت سے بے فکری و سرد مہری اختیا رکر لیتا ہے۔غافل انسان ایسا نادان ہے کہ اگر اس کو خدا سے پروانہ بھی آجاوے کہ تمہیں بہشت ملے گا، آرام ہوگا اور طرح طرح کے باغ اور نہریں عطا کی جاویں گی۔تمہیں اجازت ہے اور تمہاری اپنی خواہش اور خوشی پر منحصر ہے کہ چاہو توہمارے پاس آجائو اور چاہو تو دنیا میں ہی رہو۔تو یاد رکھو کہ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے کہ وہ اس دنیا کے گذارہ کو ہی پسند کریں گے اور باوجود طرح طرح کی تلخیوں اور مشکلات کے اس دنیا سے محبت کریں گے۔دنیا حد اعتدال سے باہر ہو چکی ہے دیکھو! عمر کا بھروسہ نہیں۔زمانہ بڑا ہی نازک آگیاہے۔آپ لو گ دیکھتے ہوں گے کہ ہر سال کئی دوست اور کئی دشمن، کئی عزیز اور کئی پیارے بھائی اور بہن اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی عزیز سے عزیز اور قریبی سے قریبی رشتہ دار انسان کی مشکلات میں سہارا دینے والانہیں ہو سکتا۔مگر بایں ہمہ انسان جس قدر محنت اور کوشش اور مجاہدہ ان کے واسطے اور اپنے دنیوی امور کے واسطے کرتا ہے وہ بمقابلہ خدا کے بہت ہی بڑھا ہواہے۔خدا کی عبادت اور فرماں برداری اور اس کی راہ میں کوشش اور سوز و گداز بہت کچھ نابو د ہے۔اعتدال نہیں کیا گیا۔دنیا حدِّ اعتدال سے باہر ہو چکی ہے۔دنیوی کاروبار میں ترقی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ترقی ہو رہی ہے۔مگر بھلا کسی نے ایسی کوشش بھی کی ہے کہ ایک دن اس کی موت کا مقرر ہے۔اس سے بھی یہ خود اپنے آپ کو یا کوئی دوسر اشخص اس کو باز رکھ سکے یا بچا سکے۔ہرگز نہیں۔بلکہ اگر کوئی موت کا یاد دلانے والا ہو گا