ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 325

متعلق اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھ دیا ہے۔معراج کی حقیقت پھر معراج کی نسبت سوال ہوا۔فرمایا۔بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے۔تمام معراج کا ذکر کرکے اخیر میں فَاسْتَیْقَظَ لکھا ہے۔اب تم خود سمجھ لوکہ وہ کیا تھا۔قرآن مجید میں بھی اس کے لئے رئویا کا لفظ ہے وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ (بنیٓ اسـرآءیل:۶۱) مسلمانوں کے موجودہ فرقے پھر دوسرے صاحب نے پوچھا کہ اسلام میں جو اَور فرقے ہیں مثلاً حنفی، شافعی، نقشبندی، چشتی، قادری کیا جیسا ان کا باہم اختلاف ہے ایسا ہی یہ ایک فرقہ ہے یا اس میں کچھ زیادہ ہے ؟ فرمایا۔ہمارے نزدیک تو یہ سب فرقے موجودہ صورت حالات میں اس تعلیم سے دور ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے متعلق فرمائی۔یہ طرح طرح کی بدعات میں گرفتار ہیں۔ایسے درود و وظائف اورذکر کے طریقے نکال رکھے ہیں جو آنحضرتؐسے ثابت نہیں۔ان میں ایک ذکر ارّہ ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کوسل ہوجاتی ہے۔بعض مجنون ہوجاتے ہیں جنہیں پھر ولی اللہ کہتے ہیں۔اسلام میں ایسی پاگل کردینے والی تعلیمات نہیں اورنہ یہ وصول اِلَی اللہ کا طریقہ ہے۔قرآن مجید میں تویہ فرمایا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا (الشّمس: ۱۰،۱۱) جب انسان محض اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے جذبا ت کو رو ک لیتا ہے تواس کا نتیجہ دین ودنیا میں کامیابی اورعزت ہے۔فلاح دو قسم کی ہے۔تزکیہ نفس حسب ہدایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرنے سے آخرکار بھی نجات ملتی ہے اوردنیا میں بھی آرام ہوتا ہے۔گناہ خود ایک دکھ ہے۔وہ بیمار ہیں جو گناہ میں لذت پاتے ہیں۔بدی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔بعض شرابیوں کو میں نے دیکھا ہے کہ انہیں نزول الماء ہوگیا۔مفلوج ہوگئے۔رعشہ ہوگیا۔سکتہ سے مَر گئے۔خدا تعالیٰ جو ایسی بدیوں سے روکتا ہے تو لوگوں کے بھلے کے لئے۔جیسے ڈاکٹر اگر کسی بیمار کو پرہیز بتاتا ہے تواس میں بیمار کا فائدہ ہے نہ کہ ڈاکٹر کا۔