ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 207

نفخِ صور کا وقت بھی یہی ہے اور فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًا کی پیشگوئی کے پوراہونے کا یہی زمانہ ہے۔۱ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۸ء بمقام بٹالہ (دوران سفر لاہور ) توحید کی برکت سے مسلمان معاشرہ کی خوبیاں ایک شخص نے عرض کیا کہ حضور کیا اچھا ہوکہ اگر کوئی ایسی سبیل ہوجاوے کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف اٹھ جاوے اور جس طرح دیگر اقوام میں دنیوی معاملات میں اپنی یکجائی اورمتفقہ کوششوں سے کامیاب ہورہے ہیں مسلمان بھی کم از کم دنیوی معاملات میں تومل کرکام کریں وغیرہ وغیرہ۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔خدا تعالیٰ نے تو کہا ہے کہ اختلاف ہمیشہ رہے گا تو پھر انسا ن کون ہے جو اس اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے؟ اصل میں غور سے دیکھا جاوے تو اندرونی اتحاد توانگریزوں میں بھی نہیں ہے۔انہی میں سے بعض لوگ تو ایسے ہیں جو حضرت عیسٰیؑ کو نعوذباللہ خدامانتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جو موحد ہیں وہ ان کو صرف ایک رسول خدا کا یقین کرتے ہیں اور پھر بعض انہی میں ایسے بھی موجود ہیں کہ وہ نہ عیسٰیؑ کو مانتے ہیں نہ خدا کو دہر یہ ہیں۔البتہ فرق یہ ہے کہ کسی نے تو درندگی سے اپنے ان عقائد کا اظہار کیا ہے اور بعض نے ذرانرمی سے اظہار کیا ہے۔پس جب سب کا اختلاف ہے تو باوجود اس اختلاف کے کسی کی ہاں میں ہاں ملانے کے تویہی معنے ہیں کہ انسان نفاق کاطریق اختیار کرے۔مگر اللہ تعالیٰ اس امت کو منافق نہیں بنانا چاہتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو نفاق سے ڈراتا ہے اور اس طریق زندگی کو بدترین حالت بیان فرماتا ہے۔اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النّسآء:۱۴۶) کسی پکے مسلمان کی غیرت اورحمیّت یہ کب گواراکرسکتی ہے کہ اپنے معتقدات اورمذہبی مسلّمہ پیارے عقائد کے خلاف سن سکے یا ان کی توہین ہوتے دیکھ سکے یا ایسے لوگوں سے جو اس کے بزرگوں کو جن کو ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۰مورخہ۲۶؍ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۲