ملفوظات (جلد 10) — Page 112
۱۰ ؍فروری ۱۹۰۸ء (بوقتِ ظہر ) شیعوں کا مبالغہ فرمایا۔شیعوں نے مبالغہ کی حد کر دی۔ایک شیعہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے تمام انبیاء حتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی امام حسینؓ کی شفاعت کے محتاج ہیں۔پھر کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ پر وحی آئی تھی مگر جبریل بھول گیا۔اور یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرتؐجب معراج کو گئے تو آگے علی ؓ موجود تھے اور ایک شخص حضرت علیؓ کو خدا کہتا تو کہا کہ اچھا لاکھوں کروڑوں بندے خدا کے اور ایک بندہ تو میرا ہی سہی۔گویا حضرت علی ؓ کو خدا بنا دیا ہے۔تعجب ہے کہ علی آسمان پر تو خدا ہے مگر زمین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف ایک صحابی ہے جو معمولی خلافت کو بھی نہ سنبھال سکا۔معلوم نہیں کہ لوگ شیعہ میں کون سا اسلام پاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل صحابہ ؓ کو سوائے دو چار کے یہ مرتد کہتے ہیں۔اُمہات المومنین پر سخت اعتراض کرتے ہیں۔قرآن کو بیاضِ عثمانی قرار دیتے ہیں۔جس قوم کے پاس کتاب اللہ نہیں اس کا مذہب ہی کیا ہوا۔کیا گالیاں دینا اور گھر بیٹھ کر دوسروں پر اور مَرے ہوؤں پر تبرّے بھیجتے رہنا یہ بھی کوئی مذہب ہے ؟ پھر تقیہ جس سے بُری کوئی بات نہیں ہو سکتی یعنی جس سے دب گئے یا جہاں کوئی اپنا مطلب جاتا دیکھا وہاں اپنے عقیدہ سے انکار کر دیا۔پھر بتائیں کہ ان کی کوئی عمدہ تفسیر بھی ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ لوگ کلام الٰہیہ کے واقف ہیں۔ہم نے تو جو تفسیر دیکھی ان میں ہر ایک آیت کے یہی معنی دیکھے کہ یہ علی کے حق میں ہے۔مقطعات میں بھی یہی خبط رہا ہے۔كٓهٰيٰعٓصٓ۔ک سے مراد کربلا ہے۔پھر توحید جو مذہب اسلام کی روح ہے اس کا یہ حال کہ آریہ باوجود سخت معاند اسلام ہونے کے ان سے اچھے ہیں جو ہزار ہابتوں کی پرستش سے نفرت رکھتے ہیں اور ان لوگوں نے بت پرستی کو از سر نو جاری کر دیا۔اجی کوئی پتھر پرست یا درخت پرست یا انسان پر ست ہو۔ایک ہی بات ہے۔