مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 525
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ ہم خدا کا شکر کرتے ہیں اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔عاجز خدا کی پناہ لینے والے غلام احمد کی طرف سے (خدا اس کی کمزوریوں کو معاف فرمائے اور اس کی تائید کرے) بحضور امیر ظلِّ سُبحانی۔مظہر تفضّلاتِ یزدانی۔شاہ ممالک کابل (اللہ اس کو سلامت رکھے) بعد دعوات سلام و رحمت و برکت کے باعث اس خط لکھنے کا وہ فطرتِ انسانی کا خاصہ ہے کہ جب کسی چشمۂ شیریں کی خبر سنتا ہے کہ اس میں انسان کے لئے بہت فوائد ہیں تو اس کی طرف رغبت اور محبت پیدا ہوتی ہے پھر وہ رغبت دل سے نکل کر اعضاء پر اثر کرتی ہے اور انسان چاہتا ہے کہ جہاں تک ہو سکے اس چشمہ کی طرف دوڑے اور اس کو دیکھے اور اس کے میٹھے پانی سے فائدہ اٹھائے اور سیراب ہو جائے اسی طرح جب اخلاق فاضلہ اور عاداتِ کریمانہ اور ہمدردیٔ اسلام و مسلمین اس بادشاہ نیک خصال کی اطلاع ہندوستان میں جا بجا ہوئی اور ذکر پاک پھل اس شجرہ مبارک دولت اور سلطنت کا ہر شہروملک میں مشہور ہوا اور دیکھا گیا کہ ہر شریف اور نجیب آدمی اس بادشاہ کی مدح میں تر زبان ہے تو مجھے کہ اس قحط الرجال کے زمانہ میںبسبب کمی مردمانِ اولوالعزم کے غم اور اندوہ میں زندگی بسر کرتا ہوں۔اس قدر سرور اور فرحت حاصل ہوئی کی میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اس کیفیت کو بیان کر سکوں۔خداوند کریم کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے ایک ایسے مبارک وجود سے بے شمار وجودوں کو بہت اقسام کی تباہی سے بچا رکھا ہے۔اصل میں وہ آدمی بہت خوش قسمت ہیں کہ جن میں ایسا بادشاہ جہاں پناہ نیک نہاد اور منصف موجود ہے اور وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں کہ جنہوں نے بعد عرصہ دراز کے اس نعمتِ غیر مترقبہ کو حاصل کیا۔خداوند کریم کی بہت نعمتیں ہیں۔کہ کوئی ان کو شمار نہیں کر سکتا مگر بزرگ تر نعمتوں میں سے وجود دو انسانوں کا ہے۔اوّل وہ جو راستی اور راستبازی کی قوت سے پُر ہوئے اور طاقت رُوحانی حاصل کی۔اور پھر وہ گرفتارانِ ظلمت اور غفلت کو نورِ معرفت