مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 480
مکتوب بنام لالہ بھیم سین صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سورۃ فاتحہ کا جو اُمّ ُالکتب ہے خاص علم دیا گیا تھا۔آپ تمام مذاہب باطلہ کی تردید اسی ایک سورۃ سے کرنے کی معجزنما قدرت رکھتے تھے۔اس کا نمونہ آپ کی تقریرں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔اور براہین احمدیہ میں خصوصیت سے اس امر کو دکھایا گیا ہے۔لالہ بھیم سین صاحب سے اس سیرۃ کے پڑھنے والے واقف و آگاہ ہو چکے ہیں۔لالہ بھیم سین صاحب ایک نیک دل اور خوش اخلاق انسان تھے۔حضرت مسیح موعودؑ سے آپ کو ایک محبت اور وداد کا تعلق تھا۔ان کے پرانے کاغذات میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تحریر عالی جناب لالہ کنور سین صاحب ایم۔اے۔پرنسپل لا کالج خلف الرشید لالہ بھیم سین آنجہانی کی کرم فرمائی سے مجھے ملی ہے جو آپ نے لالہ بھیم سین صاحب کو لکھی تھی۔اس تحریر کے مطالعہ سے معلوم ہو گا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مخاطب دوست کی کس قدر عزت اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی تعریف کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں آپ کس طرح پر ان کو اسلام کے اعلیٰ اور اکمل مذہب ہونے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔… یہ مضمون بقول قبلہ والد ماجد مرزا صاحب نے ان ایام میں اپنے دوست اور میرے والد صاحب کی خاطر لکھا تھا۔جب کہ ہر دو صاحب سیالکوٹ میں مقیم تھے اور علاوہ مشاغل قانونی و علمی کے اخلاقی و روحانی مسائل پر بھی غور وبحث کیا کرتے تھے۔اس سے اس زمانہ کے مشاغل کا عام پتہ ملتا ہے بہرحال وہ مضمون یہ ہے) ہٰذا کِتَابٌ رَحْمَۃُ اﷲِ عَلٰی قَائِلِہٖ وَ قَابِلِہٖ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (۱) حمد را باتو نسبتیست درست بر در ہر کہ رفت بردرِ تست (۲) امابعد مخاطب من کسے است کہ طالب حقیقت است و بر صدق و عدل قائم مے ماند۔(۳) ودر محافل مغرور و تعصّب نمے نشینَد۔و بر سخن ہزل واستہزا گوش نمے نہد۔و بر صلاح (۴) مکاران نمے رود و آرزو مند پیروی ارادئہ خدا ست۔بدان ارشدک اللہ تعالیٰ۔(۵) کہ درد فاتِرقوم ہنود حق پژ وہی و حقیقت گزاری بس نایاب وہم پرستی نمود ہ اندو افسانہ ہائے (۶)نا بود ہ بر نوشتہ۔گرو ہے بر آنند کہ ایزد بیہماں راانبار نمے گیریم۔(۷) آنکہ بر ہما وبشن و مہا دیو ر اخدا میدا نیم ازیں خیال است کہ ایزد بیچوں بدیں ۸) سہ پیکر مجسم شدو غبارے بد امنِ وحدت اونہ نشت۔وآنکہ بیگا نگان طعنِ