مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 473
الیگزنڈر آر ویب صاحب ہم نے جو ایک چٹھی ایک لائق اور طالب حق انگریز کی اس کتاب کے صفحہ ۴۶ میں درج کی ہے اسی انگریز کی ایک دوسری چٹھی آج یکم اپریل ۱۸۸۷ء کو امریکہ سے پہنچی ہے جس میں اس قدر شوق اور اخلاص اور طلب حق کی بو آتی ہے کہ ہم نے اپنے مخالف ہم وطنوں کے ملاحظہ کے لئے کہ جو باوجود نزدیک ہونے کے بہت ہی دور ہیں اس چٹھی کا بجنس معہ ترجمہ درج کردینا قرین مصلحت سمجھا اور ساتھ ہی وہ مختصر جواب جو ہم نے لکھا ہے ناظرین کی اطلاع کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔اور وہ چٹھی …یہ ہے:۔۳۰۲۱۔ایسٹن ایونیو سینٹ لوئیس مسوری یو۔ایس۔اے ۲۴؍ فروری ۱۸۸۷ء مرزا غلام احمد صاحب مخدومنا آپ کی چٹھی مورخہ ۱۷؍ دسمبر میرے پاس پہنچی۔میں اس قدر شکر گزار اور مرہون منت ہوا کہ بیان نہیں کرسکتا۔جواب پہنچنے کی میں تمام امیدیں قطع کرچکا تھا۔لیکن اس آپ کی چٹھی اور اشتہار نے توقّف کا پورا پورا عوض دے دیا۔بہ سبب ہیچمدانی اور کم واقفیّتی کے میں صرف اسی قدر جواب میں لکھ سکتا ہوں کہ ہمیشہ سے میرا یہی شوق اور یہی آرزو ہے کہ سچی حقیقتوں سے مجھے اور بھی زیادہ خبر ہو۔آپ کا اشتہار پڑھنے کے بعد میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا جس کو میں بغرض غور و تفکّر حضور پیش کروں گا نہ صرف معقولی طور سے بلکہ ایمانی جوش کی تحریک سے یقین کرتا ہوں کہ آپ جو روحانی ترقی میں میرے سے بڑھ کر اور خدا کے قریب تر ہیں مجھ کو ایسی طرز سے جواب دیں گے جو کہ افضل و انسب ہو۔اگر میرے لئے ہندوستان میں پہنچنا ممکن ہوتا تو میں نہایت خوشی سے پہنچتا لیکن میری ایسی حالت ہے کہ پہنچنا محال معلوم ہوتا ہے۔میری شادی ہوچکی ہے ا