مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 469
مکتوب بنام منشی محمد عبد الرحمن صاحب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ از طرف عبد اللہ الصمد غلام احمد بخدمت منشی محمد عبد الرحمن صاحب سلّمہ بعد ما وجب آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔بہتر ہوتا کہ آپ خط لکھنے سے پہلے اپنے علماء سے اس مسئلہ کو دریافت کر لیتے کیونکہ ان کا مسلم عقیدہ ہے کہ مسیح موعود پر اسی طرح وحی نازل ہو گی جس طرح انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی رہی۔صرف اس قدر فرق ہو گا کہ شریعت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو چکی ہے۔وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے گا۔مگر وحی ختم نہیں ہوئی جیساکہ مسلم کی حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔سو غلطی اور نافہمی سے ان علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ زمین پر اترآئیں گے مگر ان کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ وہی پوری وحی انجیل والی اس پر نازل ہو گی بلکہ صاف طور پر یہ عقیدہ ہے کہ تازہ اور نئی وحی الفاظ کے ساتھ وقتاً فوقتاً ان پر نازل ہوتی رہے گی۔پس ایسا اعتقاد کہ قرآن شریف کے بعد پھر نئی وحی جو وحی متلو ہو ہرگز نازل نہیں ہو گی۔یہ خدا اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف ہے اور ایسی باتوں سے تو انسان اسلام سے باہر ہو جاتا ہے اور اہل سنت کا عقیدہ صرف اسی حدتک نہیں بلکہ وہ تمام اولیاء کے لئے بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ للہ باولیاء ہٖ مکالمات مخاطبات پس مکالمات تو وہی ہوتے ہیں کہ ساتھ لفظ بھی رکھتے ہوں اور واقعی یہی بات ہے کہ آج سے برابر بائیس سال سے قرآن شریف کے وضع اور طرز پر مجھے وحی ہوتی ہے جس کے لفظ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتے ہیں جو بارہا چھپ کر شائع ہو چکے ہیں اور اس سے قرآن شریف کا کوئی استخفاف لازم نہیں آتا کیونکہ ایسے نبی علیہ السلام کے اتباع کی وجہ سے یہ وحی بطور ظلّ قرآن نازل ہوئی ہے اور ظلّ کا اصل سے مشابہت ضروری ہے۔پس اس کا انکار قلّت ِ علم یا قلّت ِ تدبّرکی وجہ سے ہے اور میاں غلام دستگیر سراسرحق پرہیں چونکہ عمر کا اعتبار نہیں مناسب ہے کہ اس غلط خیال سے توبہ کریں۔تمام نبیوں کی تعلیم کے برخلاف ہے بالفعل اسی قدر تحریر کافی۔٭ خاکسار ۳؍اگست ۰۳ ء مرزا غلام احمد از قادیان