مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 464
۔۱؎ مجھ کو یقین ہے کہ حضرت امام حسین وغیرہ کو آپ بالضرور داخل اہل ِ بیت رکھتے ہوںگے۔پھر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ان کے جسم مطہر کے ساتھ کیسی کیسی بے ادبیاں کی گئیں۔پھر آپ کے مذہب کے بموجب یہاں پر چند اشکال پیدا ہوتے ہیں۔اوّل جو امر اللہ تعالیٰ کی مرادات میں سے تھا وہ حاصل نہ ہوا۔دوم حضرت امام حسین آپ کے مذہب کے بموجب مطہر نہ رہے۔سوم وعدہ الٰہیہ میں جو بتاکید تمام یعنی کلمہ انما و تاکید مفعول مطلق وغیرہ فرمایا گیا تھا۔خلف لازم آیا یہاں بھی تو اس آیت کو پڑہیئے کہ ۔۲؎ فما ہو جوابکم فھو جوابنا۔ھو اور رفع کی نسبت آپ خودہی سوچ لیں کہ آیت میں توفّیکے بعد ہی اقل درجہ تو یہ ضروری ہے کہ توفّی کے ساتھ ہے بغیر توفّیکے آیت میں نہیں۔پھر وفات کے ساتھ کونسا رفع ہوا کرتا ہے کیا وفات کے ساتھ جسم عنصری بھی آسمان پر اٹھایا جاتا ہے تمام احادیث اور نیز قرآن مجید سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ روح کاہی رفع ہوا کرتا ہے نہ جسم کا دیکھو تفسیر آیت ۳؎ کو۔اور معنی توفّیکے جو باب تفعّل سے ہے تمام قرآن مجید اور احادیث میں موت اور قبض روح کے ہی آئی ہیں لاغیر ائمہ کبار مثل امام مالک وغیرہ بھی حضرت عیسیٰ کی موت کے ہی قائل ہیں۔حضرت عبد اللہ ابن عباس نے بھی بروایت صحیح بخاری معنی توفی کے موت کے ہی کئے ہیں اور دیکھو حاشیہ جلالین میں لکھا ہے وتمسک ابن حزم بظاہر الآیۃ و قال بموتہ تمام کتب لغت پکارپکار کر کہہ رہی ہیں کہ توفاہ اللہ ای قبض اللہ روحہ پھر فرمائیے کہ مخالفین نے ہمارے ان دلائل یقینیہ وبراہین قطعیہ کا کیا جواب دیا ہے۔آپ ہمارے رسائل کو دیکھیں اے حضرت مخالفین سے کسی ایک امر کا جواب بھی نہیں ہو سکا باوجودیکہ ہم نے ہزارہا روپیہ کے انعام کا اشتہار بھی دیا۔اگر آپ علم عربی سے واقف نہیں اور زیادہ بحثوں میں پڑنا نہیں چاہتے تو میں آپ کو ایک سہل تدبیر بتلائے دیتا ہوں آپ اپنے کاغذات پٹوارگری کوہی دیکھو بھالو کہیں نہ کہیں آپ کو لفظ توفّـیکسی اسامی دیہہ کے نام کے مقابل خسرہ وغیرہ میں ضرور ملے گا۔پھر اگر قانون گو یا تحصیلدار صاحب سے اس اسامی متوفے کی نسبت آپ فرماویں کہ حضور وہ شخص تو مرا نہیں