مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 448
مکتوب بنام محمد احسان علی صاحب الکتاب المرقوم فی تفسیر غُلِبَتِ الرُّوْم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حَامِدًا وَّ مُصَلِّـیًا محب مکرم حضرت محمداحسان علی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محبت نامہ آپ کا آیا اور اُس کے مندرجہ سے آگاہی حاصل ہوئی۔مسئلہ مہدی جو آپ نے سوال نمبر ۱،۲ میں دریافت فرمایا ہے اُس کی تحقیق کَمَا یَنْبَغِیْ تو ہمارے رسائل میں کی گئی ہے۔لہٰذا ضرور ہے کہ جو رسائل مصنفہ اسباب میںہیں اُن کو مطالعہ فرمائیے تاکہ ان کے دیکھنے سے حقیقت مہدی آپ پر بخوبی واضح ہو جائے بالفعل آپ کے ہر دوسوال کی نسبت کچھ مختصراً چند الفاظ لکھے جاتے ہیں۔واضح ہو کہ ایک مہدی تو وہ ہے جو صرف لوگوں کے خیال و وہم میں ہے اور قرآن وحدیث میں اس خیالی وہمی مہدی کا کہیں پتہ اورنشان نہیں پایا جاتا۔اورثانیاً مہدی آخرالزمان خاتم الخلفاء نفس الامری من عنداللہ ہے جس کے دعویٰ کے ثبوت کے لئے نصوصِ قرآنیہ و حدیثیہ موجو دہیں اور اُس کی شہادت کے لئے تمام آیات وامارات اور صدہا نشان الٰہی بیرونی واندرونی واقع ہوگئے ہیں جو رسائل مصنفہ میں لکھی گئی ہیں۔سوال نمبر ۱۔میں جو آپ نے زوال سلطنت اسلام سلطان روم کا یا اُس کا بیعت یا معیت مہدی میں داخل ہونا یا فتوحات خزائن ارضیہ کا اُس کے ہاتھ میں آجانا اُس کی علامات سے قرار دیا ہے وہ نہ قرآن مجید میں مذکور ہے اور نہ کسی حدیث صحیح میں آیا ہے بعض رسائل اردو آثار محشر وغیرہ میں جو اسباب میں سلطان روم کی نسبت روایات لکھی ہیں مؤلّفین رسائل نے