مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 339
مکتوب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبی اخویم مہرنبی بخش صاحب سلمہُ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط پہنچا۔اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ۔اس لئے ہم آپ کی لغزش آپ کو معاف کرتے ہیں اور آپ کی تحریر کے موافق پھر آپ کو داخل بیعت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو استقلال اورثابت قدمی بخشے اور اب خاتمہ اسی توبہ پر کرے کہ وہ غفور ورحیم ہے۔آمین۔بیشک اجازت ہے۔جب چاہیں آویں اوربہتر ہے کہ جلسہ دسمبر میں آویں اورانشاء اللہ تعالیٰ جیسا مناسب ہوگا آپ کاخط یا کوئی حصہ اُس کا الحکم میں چھپوایا جائے گا اور آپ کے پاس ایک نسخہ’’ کشتی نوح‘‘ اور ایک نسخہ’’ تحفۃ الندوہ‘‘ ارسال ہے کہ شائد ابھی تک نہیں پہنچا ہوگا۔اوراگر پہنچ گیا ہے تو کسی اور کو جہاں چاہیں دے دیں۔رسالہ ابھی نہیں دیکھا۔فرصت کے وقت انشاء اللہ تعالیٰ دیکھوں گا۔شائد تین ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ قادیان کی اُس گلی میں جس میں ہم اکثر سیر کو جاتے ہیں آپ مصافحہ کے لئے میری طرف آرہے ہیں سو وہ بات پوری ہوگئی۔٭ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ٭ الحکم نمبر۳۷ جلد۶ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۶