مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 152

حضرت مولوی محمد دین صاحب ؓ حضرت مولوی صاحب ؓ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے جہاں گفتار اور کردار میں اسلامی تعلیمات کا حسین مرقع تھے وہاں آپ اللہ تعالیٰ کی راہ میں استقامت اور وفا کا اعلیٰ نمونہ بھی تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل کے تحت ۱۹۰۱ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں پر بیعت ہونے کی سعادت بخشی جبکہ آپ کی عمر قریباً بیس سال تھی۔آپ ۱۹۰۳ء میں اپنے وطن لاہور سے ہجرت کر کے قادیان میں اپنے آقا حضرت مسیح موعود ؑ کے قدموں میں دھونی رما کر بیٹھ گئے اور ہمیشہ کے لئے یہیں کے ہو گئے۔ستمبر ۱۹۰۷ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ نے جب وقف ِزندگی کی پہلی منظم تحریک شروع فرمائی تو اپنے آقا کی آسمانی آواز پر دل و جان سے لبیک کہنے والے ابتدائی تیرہ خوش نصیبوں میں آپ کا ساتواں نمبر تھا جن کی درخواست پر حضرت امام ہمام علیہ السلام نے اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا۔’’نتیجہ نکلنے کے بعد اس خدمت پر لگ جائیں۔‘‘ آپ اس وقت علیگڑھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور وہاں سے فراغت پر آقا کے ارشاد کی تعمیل میں خدمت پر ایسے لگے کہ آخری سانس تک بفضلِ ایزدی اپنے عہدِ وقف کو عمدگی اور وفاشعاری سے نبھایا۔حضرت مولوی صاحب کی طویل زندگی کا معتدبہ حصہ علم کے میدان میں گزرا جب خود طالبعلم تھے تو ہمیشہ امتحانات میں امتیازی کا میابی حاصل کر کے وظائف کے مستحق قرار پاتے رہے اور جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سربراہی کا