مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 125
()چار آنہ کی وہ دوا خرید کر کے اور ایک شیشی میں بند کر کے بھیج دیں مگر تازہ ہو۔اس کی علامت یہ ہے کہ بہت سفید اور بہت چمکیلی ہوتی ہے اور ذرّے اُس کے ریت کے ذرّات کی طرح چمکتے ہیں اور سفید براق ہوتی ہے قریب دو تولہ کے بھیج دیں اور اس قدر کی قیمت زیادہ ہو تو زیادہ دے دیں اور اس کے ساتھ آٹھ جوڑہ جراب عمدہ مضبوط ولائتی۔جس کی فی جوڑہ آٹھ آنہ قیمت ہو، مردانہ۔بذریعہ ویلیوپے ایبل بھیج دیں اور جہاں تک ممکن ہو جلد تر بھیج دیں جو ایک طرف کثرت پیشاب کی تکلیف ہے اور ایک طرف پاؤں کو سردی کی بھی تکلیف۔اور اگر کوئی پشمی پوستین جو نئی اور گرم ہو اور کشادہ ہو جو کابل کی طرف سے آتی ہیں مل سکے تو اُس کی قیمت سے اطلاع دیں۔تا اگر گنجائش ۱؎ ہو تو قیمت بھیج کر منگوا لوں۔ضرور اس کا خیال رکھیں اور یہ دونوں چیزیں جلد تر بذریعہ ویلیوپے ایبل بھیج دیں اور جوڑہ جراب خواہ سیاہ رنگ ہو یا کوئی اور رنگ ہو مضائقہ نہیں۔اس قدر پاؤں کو سردی ہے کہ اُٹھنا مشکل ہے۔والسلام مرزا غلام احمدعفی عنہ ۱؎ نوٹ:۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب یہ گنجائش کا فقرہ بعض مخلص دوستوں نے سُنا تو بے تحاشا ہر ایک نے خواہش کی کہ پوستین ہماری طرف سے خرید کر بھیج دیا جاوے۔حضرت کو قیمت سے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں۔چنانچہ میں اور مستری محمد موسیٰ صاحب بائیسکل کے سوداگر۔انارکلی میں سوداگروں کے ہاں پوستین کی تلاش کو نکلے چنانچہ ایک دوکان پر ایک پوستین(۴۰روپے )کی پسند آئی۔مستری صاحب نے خواہش کی کہ اس کی قیمت میں دوں گا۔میں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا۔آپ شامل ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ میں نے کہا زیادہ سے زیادہ آپ نصف قیمت (۲۰روپے) دے دیں۔باقی ہم دیں گے۔غرض مستری صاحب نے اس قدر اصرار کیا کہ ہم مجبور ہو گئے اور وہ پوستین خرید کر مستری صاحب کی طرف سے حضرت کی خدمت میں بھیجی گئی۔فَجَزَاھُ اللّٰہُ اَحْسَنَ الْجَزَائِ۔(قریشی)