مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 118
مکتوب نمبر۱۲ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْْلِہِ الکَرِیْمِ محبی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ ُ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ خط پہنچا٭آپ بیشک ایک تولہ مشک بقیمت( تینتیس روپے )خرید کر کے بذریعہ وی۔پی بھیج دیں۔ضرور بھیج دیں اور چونکہ رسالہ ابھی شائع نہیں ہوا کیونکہ اس کا دوسرا حصہ جوبہت ضروری ہے طیار ہو رہا ہے اس لئے بعد تکمیل آپ یاد دلا ویں۔باقی سب خیریت ہے۔والسلام مرزا غلام احمدعفی عنہ ٭نوٹ:۔اس امر کا اظہار بھی میں اپنے لئے خدا کے فضل سے موجب فخر سمجھتا ہوں کہ حضرت کے ہاں جس قدر مشک خرچ ہوتی تھی سوائے میرے دوسری جگہ یا کسی دوسرے کی بھیجی ہوئی نہیں پسند فرماتے تھے اور درحقیقت مشک خالص اور اعلیٰ کا ملنا کوئی آسان کام بھی نہیں کہ ہر ایک کو میسر آسکے۔اگرچہ سینکڑوں روپے کی روزمرّہ شہروں میں بکتی رہتی ہے۔میرے ہاں چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مفرح عنبری کے لئے بہت بڑی مقدار کی سالانہ ضرورت رہتی ہے اور چونکہ اس کے مہیا کرنے کا خاص انتظام کیا ہوا ہے۔اس لئے حضرت وہی مشک پسند فرماتے تھے جو میں ان کی خدمت میں بھیجتا تھا۔ایک دفعہ ایک خادم جو حضرت صاحب کا سودا لینے آیا کرتے تھے مجھ سے کچھ اپنی زود رنجی کے باعث ناراض ہو گئے۔دوسری دفعہ جو حضرت نے مشک لینے کو بھیجا تو انہوںنے اپنے ہی اجتہاد سے یہ سمجھ لیا کہ قریشی کی اس میں کونسی خصوصیت ہے چلو اس دفعہ امرتسر سے فلاں حکیم صاحب کی معرفت (جو بڑے مخلص احمدی بھی ہیں) مشک خرید لی جاوے۔غرض انہوں نے امرتسر سے بڑی محنت سے حکیم صاحب موصوف کی معرفت مشک خرید لی اور لے گئے جب حضرت کے پاس وہ مشک پہنچی تو حضرت نے معاً دیکھتے ہی کہا کہ یہ کہاں سے لائے ہو تو خادم نے عرض کیا حضور اس دفعہ فلاں بھائی حکیم صاحب کی معرفت بڑی چھان بین اور محنت کے ساتھ امرتسر سے خرید کر لایا ہوں۔آپ نے فرمایا اسی وقت جائو اور اسے واپس کرو اور قریشی کے پاس سے جا کر لائو … فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔(قریشی)