مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 110
حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی ؓ حضرت حکیم محمد حسین رضی اللہ عنہ ۳؍مئی ۱۸۶۹ء میں پیدا ہوئے۔آپ حافظ قرآن بھی تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام مولوی الٰہی بخش صاحب تھا۔دادا کا نام مولوی محمد بخش صاحب تھا۔(لاہور تاریخ احمدیت) ابتدائی تعلیم حضرت مولوی رحیم اللہ صاحبؓ سے حاصل کی۔۱۸۸۶ء میں آپ گورنمنٹ سکول لاہور کی مڈل کلاس میں داخل ہوئے۔طبی تعلیم کی تکمیل کے لئے آپ نے ’’حکیم حاذق‘‘ ’’عمدۃ الحکماء‘‘ اور ’’زبدۃ الحکماء‘‘ کے امتحانات پاس کئے۔آپ حضرت حکیم محمد حسین صاحب ؓ موجد مفرح عنبری کے طور پر معروف ہیں۔آپ کو’’ براہین احمدیہ‘‘ پڑھنے کا موقع ملا اور حضرت اقدس ؑ کی محبت کا جوش پیدا ہوا۔۱۴؍جولائی ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔رجسٹر بیعتِ اُولیٰ میں آپ کا نام ۱۴۳نمبر پر درج ہے۔تاریخ بیعت ۱۴؍جولائی ۱۸۹۱ء کی ہے جہاں پوتامیاں چٹو ساکن لاہور تحریر ہے۔(چونکہ دادا کا رنگ بہت گورا تھا اس لئے میاں چٹو یعنی چٹا مشہور تھے۔اصل نام مولوی محمد بخش صاحب تھا) آپ نے طب کی مزید تعلیم حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ سے جموں میں حاصل کی۔حضرت اقدس ؑ نے ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ میں لنگے منڈی کے تعارف سے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والے احباب میں ذکر کیا ہے۔’’تحفہ قیصریہ‘‘ اور’’ کتاب البریہ‘‘ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی کے شرکاء اور پرُامن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔آپ جماعت احمدیہ لاہور کے سرگرم رکن تھے۔جماعت احمدیہ لاہور کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحبؓ کے ۱۹۲۴ء میں یورپ جانے پر قائم مقام امیر بھی رہے۔مسجد احمدیہ کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔آپ کی وفات ۱۲؍اپریل ۱۹۳۲ء کو ہوئی۔٭ ٭ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا صفحہ ۲۹۶،۲۹۷