مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 495
مکتوب نمبر۱ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبیّ اخویم مولوی غلام حسن صاحب سلّمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ چونکہ اس جگہ بباعث کثرت مہمانداری پانی کی دقّت رہتی ہے۔ایک کنواں تو ہے مگر وہ ہمارے مخالف اور بے دین شرکاء کے قبضہ میں ہے وہ لوگ خواہ نخواہ آئے دن فساد رکھتے ہیں۔لہٰذا یہ تجویز ہوئی ہے کہ اپنے گھر میں ایک کنواں لگوایا جاوے لاگت تخمیناً ۲۵۰روپیہ ہے بوجہ دِقّتِ خرچ مناسب سمجھا گیا کہ چند مخلص دوستوں کو منتخب کرکے اس کام کے لئے ان سے چندہ لیا جائے۔سو آج فہرست ایسے دوستوں کی مرتب ہو کر آپ کا نام بھی اس میں لکھا گیا لہٰذا مکلّف ہوں کہ آپ اس کام کے لئے جو کچھ بلا تکلّف انشراح خاطر سے میسر ہو سکے جلد تر ارسال فرمانویں۔کوئی فوق الطاقت تکلیف دینا منظور نہیں ہے بلکہ جیسا کہ چندوں میں دستور ہوتا ہے جو کچھ آسانی سے بطیبِ خاطر میسر آسکے ارسال فرمانویں۔چونکہ یہ امور ہمارے ذاتی آرام کے لئے نہیں ہیں بلکہ اس مہمان خانہ کی ضرورتوں کی وجہ سے ہیں اور دن بہ دن مہمانوں کی کثرت آمد ہے لہٰذا رفع تکلیف مہمانداری کے لئے یہ تجویز ہے۔اور اس جگہ ایک عمدہ کتاب چھپ رہی ہے جس کا نام ’’انجامِ آتھم‘‘ ہے۔اُمید ہے تین ہفتہ تک چھپ کر شائع ہو جائے گی۔ہم بطور فرمائش اپنے لئے یہ چاہتے ہیں کہ جس وقت انگور بیدانہ جو کھلے پکتے ہیں۔شاید کشمش تر ہونے پر آویں تو آپ کسی قدر ضرور بھیج دیں۔۵؍ستمبر ۱۸۹۶ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ