مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 477
حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ؓ حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ ۱۸۵۸ء میں سیالکوٹ میں چوہدری محمد سلطان صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ نے سیالکوٹ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔بورڈ سکول سیالکوٹ میں فارسی مدرس کے طور پر کام کیا۔آپ کے مضامین رسالہ ’’انوار الاسلام‘‘ اور ’’الحق‘‘ سیالکوٹ میں شائع ہوتے تھے۔عیسائیت کے منادوں سے مذاکرات کا آپ کو خاص ملکہ تھا۔آپ کبھی کبھی اردو ، فارسی میں ’’صافی‘‘ تخلّص سے شعر بھی کہتے تھے۔۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کی بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کا بیعت نمبر ۴۳ ہے۔آپ کی والدہ حضرت حشمت بی بی صاحبہؓ کی بیعت ۷؍فروری ۱۸۹۲ء اور اہلیہ حضرت زینب بی بی صاحبہ ؓ کی بیعت بھی اسی روز کی ہے۔اس سے قبل سرسید احمد خاں کی تحریرات سے متاثر تھے۔۱۸۹۸ء میں سیالکوٹ چھوڑ کر قادیان تشریف لے آئے۔قادیان میں ہجرت کرنے کے بعد آپ حضرت اقدس ؑ کی تائید میں مضامین لکھنے کے علاوہ خطبات ، تقاریر اور لیکچرز بھی دیتے تھے۔حضرت اقدس ؑ ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں۔’’حبیّ فی اللہ مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی۔مولوی صاحب اس عاجز کے یک رنگ دوست ہیں اور مجھ سے ایک سچی اور زندہ محبت رکھتے ہیں اور اپنے اوقات عزیز کا اکثر حصہ انہوں نے تائید دین کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ان کے بیان میں ایک اثر ڈالنے والا جوش ہے۔اخلاص کی برکت اور نورانیت ان کے چہرہ سے ظاہر ہے میری تعلیم کی اکثر باتوں سے وہ متفق الرائے ہیں۔… اخویم مولوی نوردین صاحب کے انوار ِ صحبت نے بہت سانورانی اثر ان کے دل پہ ڈالا ہے۔…‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۵۲۳) حضرت مسیح موعود ؑ حضرت مولانا عبد الکریم صاحبؓ کی اس محبت کی کیفیت کو یوں بیان فرماتے ہیں۔