مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 37

مکتوب نمبر ۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ مشفقی مکرمی اخویم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچ کر بدر یافت حادثہ ، واقعہ وفات اہلیہ مغفورہ مرحومۂ آنمکرم سخت اندوہ و حزن ہوا۔’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘۔مومنوںکے لئے یہ دنیا دار الابتلاء ہے۔خاص کر ان مومنوں کے لئے جو خلوص اور اتحاد زیادہ پیدا کر لیتے ہیں۔حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے۔اس کو قضا ء و قدر کی مصیبتوں کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت رکھے اس پر اس قدر مصیبتیں نازل ہوتی ہیں کہ جیسے پہاڑ کے اوپر سے نیچے جلدتر پتھر آتا ہے۔سو آپ لِلّٰہ محبت واخلاص رکھتے ہیں۔ضرور تھا کہ آزمائے جاتے۔سخت تر مصیبت یہ ہے کہ اس مرحومہ کے خوردسال بچے اپنی والدۂ مہربان کا منہ دیکھنے سے محروم رہ گئے۔خدا تعالیٰ ان کے دلوں کو غیب سے تسلیّ اور خوشی بخشے اور آپ کو نعم البدل عطا کرے۔میرے نزدیک تلاش نکاح ثانی کی ضروری ہے۔یہی سنت ہے۔آپ کی عمر کچھ بڑی نہیں ہے۔زیادہ خیریت ہے۔٭ والسلام ۲۳؍مارچ ۱۸۹۰ء ۱؎ ٭ اصحاب احمد جلد ششم صفحہ ۱۴ ۱؎ یہ خط خاکسار پہلی بارشائع کر رہا ہے۔الحکم ۳۶؍۲؍۱۴ میں ’’خط کا متن‘‘ نہیں صرف اس کی تاریخ کا ذکر ہے۔وہاں قاضی محمد عبد اللہ صاحب کی تقریر ذکر حبیب شائع ہوئی ہے۔وہاں سہواً تاریخ مکتوب ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء تحریر ہے۔حضرت قاضی صاحبؓ نے ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو آغاز بیعت کے روز بیعت کی۔اس کے گیارہ ماہ بعد ان کی اہلیہ محترمہؓ کا انتقال ہوا۔جس پر حضورؑ نے تعزیتی مکتوب ارسال فرمایا۔چنانچہ حضرت قاضی صاحبؓ کے روزنامچہ میں یہ مکتوب نقل ہے اور وہاں تاریخ ۲۳؍مارچ ۱۸۹۰ء د۶۵د رج ہے اور یہی روزنامچہ قاضی محمد عبدا للہ صاحب کی اطلاع کا ماخذ ہے۔(مؤلف)