مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 221
تعمیل کرتے ہیں۔باقی سب خیریت ہے۔٭ والسلام ۱۳؍جولائی۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمدعفی عنہ مکتوب نمبر ۷۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ محبیّ اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہُاللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا محبت نامہ پہنچا۔آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ اب مقدمہ کی تاریخ۲۴؍ اگست ۱۸۹۹ء مقرر ہوئی ہے۔چونکہ محمد حسین نے میرے پر الزام لگایا ہے کہ لیکھرام کا قاتل یہی شخص ہے۔اس لئے لیکھرام کے قتل میں طلب ہونے پر محمد بخش ۱؎ ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ نے لکھوایا ہے کہ افواہ یہی تھی کہ لیکھرام کے قاتل یہی ہیں۔اور نیز یہ بھی لکھوایا ہے کہ ان کا یہی طریق ہے کہ کسی کے مرنے کی پیشگوئی کر دیتے ہیں اور پھر اپنی جماعت کے ذریعہ سے اس پیشگوئی کو پورا کرتے ہیں۔یہی بشیر حسین انسپکٹر نے اظہار دیا ہے۔محمد بخش نے یہ بھی لکھوا دیا ہے کہ سرحدی لوگ جو سرکار انگریزی کے دشمن ہیں ان کے پاس پوشیدہ طور پر آتے رہتے ہیں۔اور یہ خطرناک ہیں۔حاکم کے دل میں ایک ذخیرہ شکوک کا اور ہے کہ درحقیقت یہ اور ان کی جماعت سرکار انگریزی کے باغی اور بد خواہ اور مقابلہ کے لئے تیاری کر رہے ہیں ڈالا گیا ہے اور جس قدر اس ضلع کے رئیس وغیرہ ملتے ہیں۔وہ بھی یہی گواہی دیتے ہیں کہ باغی اور خطرناک ہیں تمام جماعت خطرناک ہے اور پوشیدہ طور پر لوگوں کی خونریزی کے لئے لگے رہتے ہیں ان پلید بیانوں کی ٭ سیرت احمد از حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحب ؓ صفحہ ۲۱۷ ۱؎ یہ مکرم شیخ نیاز محمد صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر پولیس کے والد تھے۔جو اس قسم کے افعال کی وجہ سے عمر کے آخری حصہ میں تائب ہوکر رجوع کرچکے تھے۔جس کی تفصیل شیخ صاحب موصوف کی ان روایات میں موجود ہے جو الفضل ۲۴ ؍ فروری ۴۰ء میں شائع ہوچکی ہیں۔خاکسار۔ملک فضل حسین