مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 212
مکتوب نمبر۵۸ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبیّ اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلّمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اب خاص توجہ سے آپ کے لئے دُعا کرتا رہوں گا کہ اللہ تعالیٰ جلد تر اُس جگہ سے مخلصی عطا فرماوے۔اب فوجداری مقدمہ کی تاریخ ۱۴؍ فروری ۱۸۹۹ء ہوگئی ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ اب تک یہی معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کی نیت بخیر نہیں۔جمعہ کی رات مجھے یہ خواب آئی ہے کہ ایک لکڑی یا پتھر کو میں نے جناب الٰہی میں دُعا کرکے بھینس بنا دیا ہے اور پھر اس خیال سے کہ ایک بڑانشان ظاہر ہوا ہے۔سجدہ میں گرا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ربّی الاعلٰی۔ربّی الاعلٰی میرے خیال میں ہے کہ شاید اس کی یہ تعبیر ہو کہ لکڑی اور پتھر سے مراد وہی سخت دل اور منافق طبع حاکم ہو اور پھر میری دُعا سے اُس کا بھینس بن جانا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ہمارے لئے ایک مفید چیز بن گئی ہے جس کے دودھ کی امید ہے اگر یہ تاویل درست ہے تو امید قوی ہے کہ مقدمہ پلٹا کھا کر نیک صورت پر آجائے گا اور ہمارے لئے مفید ہو جائے گا اور سجدہ کی تعبیر یہ لکھی ہے کہ دشمن پر فتح ہو۔الہامات بھی اس کے قریب قریب ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس خواب کے ظہور کا محل کوئی اور ہو بہرحال ہمارے لئے بہتر ہے خوا ہ کسی پیرایہ میں ہو۔باقی سب طرح سے خیریت ہے۔والسلام ۵؍فروری ۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان