مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 530
مکتوبات احمد ۳۹۰ جلد سوم مکتوب نمبرا مخدومی ومکرمی حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ یقین کہ آں مکرم بخیر و عافیت بھیرہ میں پہنچ گئے ہوں گے میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ بہر حال آپ سے بہتر معاملہ کرے گا۔میں نے کتنی دفعہ جو توجہ کی تو کوئی مکر وہ امر میرے پر ظاہر نہیں ہوا۔بشارت کے امور ظاہر ہوتے رہے اور دو دفعہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔إِنِّي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَ اَری۔ایک دفعہ دیکھا گیا کہ گویا ایک فرشتہ ہے اس نے ایک کاغذ پر مہر لگا دی اور وہ مہر دائرہ کی شکل پر تھی۔اس کے کنارہ پر محیط کی طرف اعلیٰ کے قریب لکھا تھا۔نور دین اور درمیان یہ عبارت تھی۔اَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ میری دانست میں ازواج دوستوں اور رفیقوں کو بھی کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نورالدین خالص دوستوں میں سے ہیں کیونکہ اسی رات اس سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ فرشتہ نظر آیا۔وہ کہتا ہے کہ تمہاری جماعت کے لوگ پھرتے جاتے ہیں فلاں فلاں اپنے اخلاص پر قائم نہیں رہا۔تب میں اس فرشتہ کو ایک طرف لے گیا اور اس کو کہا کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں تم اپنی کہو کہ تم کس طرف ہو تو اس نے جواب دیا کہ ہم تو تمہاری طرف ہیں تب میں نے کہا کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ میری طرف ہے تو مجھے اس کی ذات کی قسم ہے کہ اگر سارا جہان پھر جائے تو مجھے کچھ پرواہ نہیں پھر بعد اس کے میں نے کہا کہ تم کہاں سے آتے ہو اور آنکھ کھل گئی اور ساتھ الہام کے ذریعہ سے یہ جواب ملا کہ ابى مِنْ حَضْرَةِ الْوِتْرِ میں نے سمجھا کہ چونکہ اس بیان سے جو فرشتہ نے کیا وتر کا لفظ مناسب تھا کہ وتر تنہا اور طاق کو کہتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کا نام الوتر بیان کیا۔اس خواب اور اس الہام سے کچھ مجھے بشریت سے تشویش ہوئی اور پھر سو گیا۔تب پھر ایک فرشتہ آیا اور اس نے ایک کاغذ پر مہر لگادی اور نقش مہر جو چھپ گیا دائرہ کی طرح تھا اور وہ اس قدر دائرہ تھا جو ذیل میں لکھتا ہوں اور تمام شکل یہی تھی۔تذکره صفحه ۲۶۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء تذکره صفحه ۱۶۴ مطبوعه ۲۰۰۴ء