مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 417
مکتوبات احمد ۲۷۷ حضرت شیخ فتح محمد صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کے نام تعارفی نوٹ جلد سوم شیخ فتح محمد صاحب آغاز شباب میں بحیثیت طالب علم حضرت خلیفہ المسح اول رضی اللہ عنہ کے حضور جموں پہنچے اور آپ کی خدمت میں کچھ کتابیں پڑھیں اور آپ کے توسط سے سلسلہ ملا زمت میں منسلک ہو گئے۔ذہین اور زیرک ہونے کے ساتھ طبیعت تیز تھی اور اس وجہ سے دوستوں کی بجائے دشمن زیادہ پیدا کر لیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اخلاص رکھتے تھے اور حضور مؤلفۃ القلوب کے طور پر ہمیشہ دلداری فرماتے۔پنشن لے کر آخر قادیان آگئے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز بھی ہمیشہ چشم پوشی فرماتے رہے۔بالآخر میں تو قادیان سے باہر گیا ہوا تھا معلوم ہوا کہیں روپوش ہو گئے اور پھر واپس نہ آئے۔اللہ تعالیٰ ان کی ستاری فرمائے۔ان کی اولا د میں صلاحیت ہے اور وہ سلسلہ سے وابستہ ہیں۔شیخ صاحب کے پاس حضرت اقدس کے خطوط کا ایک اچھا مجموعہ تھا اور مجھے دینے کا وعدہ کرتے رہے مگر میری غیر حاضری اور ان کی روپوشی نے موقعہ نہ دیا۔ذیل کے مکتوبات ان کے فرزند رشید صالح محمد صاحب سے حاصل کر کے ملک فضل حسین صاحب نے الفضل میں شائع کئے ہیں۔(عرفانی کبیر )