مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 59
مکتوب نمبر۳۷ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی اخویم مجذوب الحق و مورَد احسانات الٰہیہ سلّمہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جب سے یہ خاکسار آپ کی ملاقات کر کے آیا ہے تب سے مجھے آپ کے ہموم و غموم کی نسبت دن رات خیال لگا ہوا ہے اور میرا دل بڑے یقین سے یہ فتویٰ دیتا ہے کہ اگر نکاح ثانی کا دلخواہ انتظام ہو جاوے تو یہ امر موجب برکات کثیرہ ہوگا اور میں امید کرتا ہوں کہ اس سے تمام کسل و حزن بھی دور ہوگا اور اللہ جلشانہٗ اپنے فضل و کرم سے اولاد صالح صاحبِ عمر و برکت بھی عطا کرے گا۔لیکن اہلیہ ایسی چاہئے جس سے موافقت تامّہ کا پہلے سے یقین ہو جائے۔نہایت نیک قسمت اور سعید وہ آدمی ہے کہ جس کو اہلیہ صالحہ محبوبہ میسر آ جائے کہ اس سے تقویٰ طہارت کا استحکام ہوتا ہے اور ایک بزرگ حصہ دین اور دیانت کا مفت میں مل جاتا ہے۔اسی وجہ سے تقریباً تمام نبیوں اور رسولوں کی توجہ اسی بات کی طرف لگی رہی ہے کہ انہیں جمیلہ، حسینہ، صالحہ بیوی میسر آوے جس سے گویا انہیں ایک قسم کا عشق ہو۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا ایک مشہور واقعہ ہے اور لکھا ہے کہ اسلام میں پہلے وہی محبت ظہور میں آئی۔سو میں آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ سب سے پہلے اللہ جلشانہٗ آپ کو یہ نعمت عطا کرے۔میرے نزدیک یہ نعمت اکثر نعمتوں کی اصل الاصول ہے اور چونکہ مومن اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا طالب و جویاں بلکہ عاشق و حریص ہوتا ہے اس لئے میری رائے میں مومن کیلئے یہ تلاش واجبات میں سے ہے۔اور میری رائے میں وہ گھر بہشت کی طرح پاک اور برکتوں کا بھرا ہوا ہے جس میں مرد اور عورت میں محبت و اخلاص و موافقت ہو۔اب قصہ کوتاہ یہ کہ اس نعمت کیلئے جلد جلد فکر کرنا چاہئے اور جو آپ نے زبانی فرمایا تھا کہ اپنی برادری میں ایک جگہ زیر نظر ہے، اس کی آپ اچھی طرح تحقیق و تفتیش کریں اور بچشم خود دیکھ لیں اور پھر مجھ کو اطلاع دیں۔اور اگر وہ صورت قابل پسند نہ نکلے تا ہم اطلاع بخشیں کہ تا جابجا اپنے دوستوں کی معرفت تلاش کی جاوے۔دوسرے ایک یہ امر بھی قابل انتظام ہے کہ آپ کے اخراجات ایسے حد سے بڑھے ہوئے ہیں کہ جن کے سبب سے ہمیشہ آپ کو