مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 561
مکتوب نمبر ۱۵۴ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔موجب خوشی ہوا۔یہ عاجز بباعث کثرت خطوط اور کسی قدر علالت طبع کے اس قدر حیران ہے کہ حدسے زیادہ۔انشاء اللہ القدیر بعد رمضان شریف آپ کی خدمت میں اشتہار بھیجا جائے گا۔ہمیشہ خیروعافیت سے مطلع فرماتے رہیں۔آپ کا تھانہ بڑ سر میںبھی حسب مرا دتبدیل ہونا موجب خوشی ہے۔اللہ تعالیٰ یہ تھانہ آپ کے لئے مبارک کرے۔والسلام ۶؍ مئی ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد از قادیان مکتوب نمبر ۱۵۵ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نا مہ پہنچا۔تمام مضمون اوّل سے آخر تک پڑھا۔مضمون بہت عمدہ ہے۔کچھ ضرورت اصلاح یا کم و بیش کی نہیں۔مگر مجھے معلوم نہیںہو اکہ قوم آوان اولاد حضرت علی کیونکر ہیں، آیا سیّد ہیں یا کسی اور بیوی سے؟ اس کی اصل حقیقت کیا ہے اور آوان کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔دوسرے آپ فرماتے ہیں کہ سو کاپی چھپوائی جائے۔مگر معلوم ہوا کہ خواہ سوچھپوائیں یا کم یا زیادہ سات سو کاپی کی اجرت لیں گے۔یہی چھاپے والوں کے ہاں دستور ہے۔میری رائے میں اس مضمون کے چھپوانے میں دس روپیہ سے کم خرچ نہیں آئیںگے۔اگر کم ہوتو شاید آٹھ روپیہ تک ہو گا۔جیسامنشا ہو اطلاع بخشیں۔والسلام ۱۶؍ مئی ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد