مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 547
مکتوب نمبر ۱۳۰ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی۔السلام علیکم۔آج ایک خط جس کو آپ نے رحمت علی کے ہاتھ بھیجا تھا کسی حجام کے ہاتھ قادیان سے مجھ کو ملا۔خط میں جوآپ نے چاول روانہ کرنے کاحال لکھا ہے۔سو واضح رہے کہ آج تاریخ ۴؍ جون تک چاول نہیں پہنچے۔نہ تھانہ میں آئے اور میں اب تک بٹالہ میں ہوں۔شاید ۲۵؍ رمضان تک قادیان جائوں گا۔بشیر احمد کی طبیعت بہ نسبت سابق اچھی ہے اور سب خیریت ہے۔والسلام ۴؍ جون ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد مکتوب نمبر ۱۳۱ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یہ عاجز اخیررمضان تک اس جگہ بٹالہ میں ہے۔غالباً عید پڑھنے کے بعد قادیان میں جائوں گا۔چاول مرسلہ آپ کے نہیں پہنچے۔معلوم نہیں آپ نے کس کے ہاتھ بھیجے تھے اور چونکہ اس جگہ خرچ کی ضرورت ہے۔اگر خریدار براہین احمدیہ سے دس روپے وصول ہو گئے ہوں تو وہ بھی اسی جگہ ارسال فرماویں۔والسلام ۵؍ جون ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد