مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 409
ہے اور خدا کاکلام غلط نہیں جاتا۔میرا یہ حا ل ہے کہ اگر دنیا کے تمام بادشاہ متفق ہو کر ایک وعدہ کریں تو میں اس وعدہ کو پھر یقینی نہیں سمجھتا کیونکہ ممکن ہے کہ قبل ایفائے وعدہ کے وہ لوگ مر جائیں اور اس کے ایفا پر قادر نہ ہوسکیں۔وہ مجبور ہیں مگر خدا تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس راہ سے اورکس طور سے ان غموم سے آپ کو نجات دے گا اورنہ ابھی تک یہ معلوم ہے کہ وہ وقت کب ہے لیکن کسی قدر مدت کی بات ہے۔خداوند قادر کی طرف سے یہ وعدہ ہے۔وَالْکَرِیْمُ اِذَا وَعَدَ وَفَا اس لئے آپ جوانمردی سے اس ذوالجلال کے وعدے کے منتظر رہیں اور کسی کی بے التفاتی پر کچھ بھی پرواہ نہ کریں جس طرح بارش نا معلوم آتی ہے۔نہیں معلوم ہو تا کہ کب بادل ہو گا اورکب مینہ برسے گا۔اسی طرح خدا کافضل بھی چور کی طرح آتا ہے۔پورے استقلال اوراستقامت سے منتظر رہنا چاہئے بلکہ بہت خوش رہنا چاہئے کہ خدا کاوعدہ ہے نہ انسان کا۔اگرآپ دیکھیں کہ میں آگ میں پڑ گیا ہوں یا پڑتا ہوں تب بھی آپ خوش رہیں کیونکہ جس نے یہ آگ پید اکی ہے و ہ ایک دم میں اس کوبجھا سکتا ہے۔دنیا میں میں اس بات کو خوب سمجھتا ہوں کہ کیونکر وہ ہمار اخد اہر ایک چیز پر قادر ہے اس لئے میں آگ میں بھی پڑکر ا س کو بہشت تصور کرتا ہوں۔تمام دکھ اس بات سے ہوتے ہیں جب انسان نہیں جانتا کہ یہ تکلیفیں کیوں آتی ہیں؟ اورکیونکر دور ہو سکتی ہیں؟ مگرجب خد اتعالیٰ کی آوازیں خبر دیتی ہیں کہ یہ تکلیفیں اس کی طرف سے ہیں اور اس کے ارادے کے ساتھ معاً نیست و نابود ہو جاتی ہیں تو کیوں غم کیا جائے۔باقی خیریت ہے۔اس وقت قادیان کے چاروں طرف طاعون ہے قریبا ًدو کوس کے فاصلہ پر اورقادیان اس وقت ایک کشتی کی طرح ہے جس کے اِردگرد سخت طوفان ہے اور وہ دریا میں چل رہی ہو۔ہر ایک ہفتہ میں شاید بیس ہزار کے قریب آدمی مر جاتا ہے خدا نے ان شکوک کو دور کر دیا کہ اس وقت عام طاعون پھیلے گی۔٭ والسلام ۳؍ اپریل ۱۹۰۲ء خاکسار مرزا غلام احمد