مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 350

یاد نہ ہو تو اپنی زبان میں کافی ہے اور سفر کا نام لے لینا چاہئے کہ فلاں جگہ کے لئے سفر ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کا ہر جگہ حافظ ہو لیکن ہماری طرف سے شرط یہ ہے کہ ایام سابق کی طرح آپ صرف دس پندرہ دن نہ رہیں، چالیس دن سے کسی طرح کم نہ رہیں۔ہر ایک جدائی کے بعد معلوم نہیں کہ پھر ملنا ہے یا نہیں۔کیونکہ یہ دنیا سخت بے ثبات اور ناپائیدار ہے۔شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا اس میں کیا عمدہ سبق ہے۔بلبلے زار زار می نالید بر فراق بہار و وقت خزاں گفتمش صبر کن کہ باز آید آن زمان شگوفہ و ریحان گفت ترسم بقا وفا نکند ورنہ ہر سال گل دہد بستان ٭والسلام ۱۴؍ نومبر ۱۸۹۶ء خاکسار مرزا غلام احمد ٭…٭…٭ مکتوب نمبر ۱۲ مخدومی مکرمی حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔کل تار کے ذریعہ سے مبلغ سو روپیہ مجھ کو آپ کی طرف سے پہنچ گیا۔اللہ جلّشانہ آنمکرم کو ان لِلّٰہی خدمات کا دونوںجہاں میں اجر بخشے اور آپ کو محبت میں اپنی ترقیات عطا فرماوے اور آپ کے ساتھ ہو۔میں آپ سے دلی محبت رکھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اپنی کسی کتاب میں محض بھائیوں کی دعا کے لئے آنمکرم کی دینی خدمات کا کچھ حال لکھوں۔کیونکہ اس میں دوسروں کو نمونہ ہاتھ آتا ہے اور محبانِ اسلام غائبانہ دعا سے یاد کرتے ہیں اور آئندہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور نیز چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ چند اور دوستوں کا بھی ذکر کروں۔کیونکہ اللہ جلّشانہ قرآن شریف میں ترغیب دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جیسا کہ تم بعض اپنے نیک اعمال کو پوشیدہ کرتے ہو ایسا ہی بعض