مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 28
مکتوب نمبر۱۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ یہ عاجزبباعث شدت درد سر جو کئی دن سے لاحق رہی اور آج کچھ تخفیف ہے مگر ضعف بہت، تحریر جواب سے قاصر رہا ہے۔حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت ہی فضل و کرم ہے جس کا غور سے مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس کا شکر ادا نہیں کر سکیں گے۔رہی جزئیات فکرو تردّد۔سو وہ بھی کسی بڑی مصلحت کیلئے جس کی حقیقت تک انسان کو رسائی نہیں ایک وقت مقررہ تک لگائے گئے ہیں اور وقت مقررہ کے آنے سے دور بھی ہو جائیں گے۔۔۱؎ اس احقر ناچیز کی دعا بھی انشاء اللہ منقطع نہیں ہوگی جب تک کشود کار پیدا نہ ہو۔وَلَمْ اَکُنْ بِدُعَائِہٖ شَقِیًّا۔اور دینی امور میں اگرکچھ قبض ہو یا اعمال صالحہ سے بے رغبتی ہو تو پھر بھی مقام شکر ہے کہ اس نقصان حالت کیلئے دل جلتا ہے اور کباب ہوتا ہے۔یہ بھی تو ایک بڑی نیکی ہے کہ نیکی کے حصول کیلئے دل غمگین رہے۔ہم لوگ بکلّی اپنے اختیار میں نہیں۔علّت العلل ہمارے سر پر جو مدبّر و حکیم ہے بمقتضائے مصلحت و حکمت جو چاہتا ہے ہم سے معاملہ کرتا ہے۔فرض کیا اگر وہ ہمیں دوزخ میں ڈالے تو وہ دوزخ ہمیں بہشت سے اچھا ہے۔ہم کیسے ہی نالائق ہوں مگر پھر اس کے ہیں۔گر نہ باشد بدوست راہ بُردن شرط عشق است در طلب مردن والسلام خاکسار ۲؍ مارچ ۱۸۸۷ء غلام احمد از قادیان