مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 325
مذکورہ بالا کے جواب میں نواب صاحب نے تحریر فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سیّدی و مولائی طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم۔میری اپنی رائے تو یہی تھی کہ حضور ہی کوئی مہلت معقول عطا فرما دیتے مگر جب حضور (نے٭) مجھ پر چھوڑا تو یہ امر زیادہ ذمہ داری کا ہو گیا۔اس لئے جہاں حضور نے یہ عنایت فرمائی ہے اتنی مہربانی اور ہو کہ میں ایک ماہ کے اندر سوچ کر عرض کر دوں کہ میں کب تک رخصتانہ کا انتظام کر سکتا ہوں۔اس کی صرف یہ ضرورت ہے کہ میں انتظام میں لگا ہوں۔پس اس عرصہ میں مجھ کو اِنْ شَآئَ اللّٰہُ تَعَالٰیٹھیک معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر عرصہ میں انتظام مکمل ہو جائے گا۔حضور بھی دُعا فرمائیں کہ میں اس میں کامیاب ہوں۔میں آج کل ہر طرح کے ابتلاؤں (کے٭) نرغے میں ہوں۔راقم محمد علی خان مکرر: اس عرصہ بعد مجھ کو جتنی مہلت کی ضرورت ہوگی عرض کر کے تاریخ مقرر کردوں گا۔باقی اختیار اللہ تعالیٰ کے ہیں وہی سامان کرنے والا ہے حضور کی دُعا کے ہم سب ہر وقت محتاج ہیں۔محمد علی خان اس پر حضور نے تحریر فرمایا: مکتوب نمبر۱۰۰ ژ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔مجھے منظور ہے امید کہ آپ ایک ماہ کے بعد مطلع فرمائیں گے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ