مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 25
مکتوب نمبر۱۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِی مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب۔سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کے استفسار کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ اصل علاج حزن کا ترقی معرفت……… اللہ جلّشانہٗ کا یہی قانون قدرت ہے کہ عسر یسر دونو متبادل وارد ہوتے رہتے ہیں۔سو یسر تو خود موافق خواہش نفس انسانی ہے لیکن عسر بھی بحالت موافقت باللہ و انشراح قلب و رضا بقضا و محبت ذاتیہ مولیٰ برنگ یسر ہی دکھائی دیتا ہے اور ایلام بصورت انعام نظر آتا ہے۔پانی در زنجیر پیش دوستان کی کیفیت سروری وہ شخص بآسانی سمجھتا ہے جو کسی ایک آدھ جرعہ محبت سے کسی قدر مستی حاصل کرتا ہے۔غرض ہمیشہ خوش رہنے کے لئے اختیار نامرادی جیسی کوئی چیز نہیں۔جب انسان ایک ذات کامل کو اختیار کر کے اپنے دل میں ترک مرادات کا اصول قائم کر لیتا ہے تو عجیب راحتیں پاتا ہے۔بشرطیکہ اس اصول کے اختیار کرنے میں خود ناقص نہ ہو۔سو یہی حقیقت ۱؎ کی ہے۔استقامت یہی ہے کہ کسی ظاہری یا باطنی جنبش دہندہ سے اپنی موافقت بالمولیٰ میں ذرا جنبش نہ آوے۔خدا تعالیٰ ہم کو اور آپ کو یہ استقامت نصیب کرے۔آمین ثم آمین ۱۳؍ فروری ۱۸۸۷ء ٭