مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 293
مکتوب نمبر۸۱ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمِ محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلّمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔چونکہ آپ کے تردّدات اور غم اور ہم انتہا تک پہنچ گیا ہے اس لئے بموجب مثل مشہور کہ ہر کمالے را ز والے۔امید کی جاتی ہے کہ اب کوئی صورت مخلصی کی اللہ تعالیٰ پیدا کر دے گا اور اگر وہ دعا جو گویا موت کا حکم رکھتی ہے اپنے اختیار میں ہوتی تو میں اپنے پر آپ کی راحت کے لئے سخت تکالیف اُٹھا لیتا۔لیکن افسوس کہ جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے ایسی دُعا خدا تعالیٰ نے کسی کے ہاتھ میں (نہیں٭) رکھی۔بلکہ جب کہ وقت آ جاتا ہے تو آسمان سے وہ حالت دل پر اُترتی ہے۔میں کوشش میں ہوں اور دعا میں ہوں کہ وہ حالت آپ کے لئے پیدا ہو اور امید رکھتا ہوں کہ کسی وقت وہ حالت پیدا ہو جائے گی اور میں نے آپ کی سبکدوشی کیلئے کئی دعائیں کی ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ خالی نہ جائیں گی۔جس قدر آپ کے لئے حصہ تکالیف اور تلخیوں کا مقدر ہے اُس کا چکھنا ضروری ہے۔بعد اس کے یکدفعہ آپ دیکھیں گے کہ نہ وہ مشکلات ہیں اور نہ وہ دل کی حالت ہے۔اعمال صالحہ جو شرط دخول جنت ہیں دو قسم کے ہیں۔اوّل وہ تکلیفاتِ شرعیہ جو شریعتِ نبویہ میں بیان فرمائی گئی ہیں اور اگر کوئی ان کے ادا کرنے میں قاصر رہے یا بعض احکام کی بجا آوری میں قصور ہو جائے اور وہ نجات پانے کے پورے نمبر نہ لے سکے تو عنایتِ الٰہیہ نے ایک دوسری قسم بطور تتمہ اور تکملہ شریعت کے اُس کے لئے مقرر کر دی ہے اور وہ یہ کہ اُس پر کسی قدر مصائب ڈالی جاتی ہیں اور اُس کو مشکلات میں پھنسایا جاتا ہے اور جس قدر کامیابی کے دروازے اُس کی نگہ میں ہیں سب کے سب بند کر دئے جاتے ہیں۔تب وہ تڑپتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ شاید میری زندگی کا یہ آخری وقت ہے اور صرف اسی قدر نہیں بلکہ اور مکروہات بھی اور کئی جسمانی عوارض بھی اُس کی جان کو تحلیل کرتے ہیں۔تب خدا کے کرم اور فضل اور عنایت کا وقت آ جاتا ہے اور درد انگیز دعائیں اُس قفل کے لئے بطور کنجی کے ہو جاتی ہیں۔معرفت زیادہ کرنے اور نجات دینے کیلئے