مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 64
جعلی دستاویز مت بنا اور اپنی تحریر میں جعلسازی نہ کر، تُو کسی پر تہمت مت لگا اور کسی کو الزام مت دے کہ جس کی تیرے پاس کوئی دلیل نہیں۔(۱۰) تُو چغلی نہ کر، تُو گلہ نہ کر، تُو نمامی مت کر اور جو تیرے دل میں نہیں وہ زبان پر مت لا۔(۱۱) تیرے پر تیرے ماں باپ کا حق ہے جنہوں نے تجھے پرورش کیا۔بھائی کا حق ، محسن کا حق ہے، سچے دوست کا حق ہے، ہمسایہ کا حق ہے، ہم وطنوں کا حق ہے، تمام دنیا کا حق ہے۔سب سے رتبہ برتبہ ہمدردی سے پیش آ۔(۱۲) شرکاء کے ساتھ بدمعاملگی مت کر، یتیموں اور ناقابلوں کے مال کو خوردبرد مت کر۔(۱۳) اسقاطِ حمل مت کر، تمام قسموں زنا سے پرہیز کر، کسی عورت کی عزت میں خلل ڈالنے کیلئے اُس پر کوئی بہتان مت لگا۔(۱۴) رُوبخدا ہو اور رُوبدنیا نہ ہو کہ دنیا ایک گذر جانے والی چیز ہے اور وہ جہاں ابدی جہان ہے بغیر ثبوتِ کامل کے کسی پر نالائق تہمت مت لگا کہ دلوں اور کانوں اور آنکھوں سے قیامت کے دن مواخذہ ہوگا۔(۱۵) کسی سے جبراً کوئی چیز مت چھین اور فرض کو عین وقت پر ادا کر اور اگر تیرا قرضدار نادار ہے تو اُس کو قرض بخش دے اور اگر اتنی طاقت نہیں تو قسطوں سے وصول کر لیکن تب بھی اُس کی وسعت وقت دیکھ لے۔(۱۶) کسی کے مال میں لاپروائی سے نقصان مت پہنچا اور نیک کاموں میں مدد دے۔(۱۷) اپنے ہمسفر کی خدمت کر اور اپنے مہمان سے تواضع سے پیش آ۔سوال کرنے والے کو خالی مت پھیر اور ہر ایک جاندار بھوکے پیاسے پر رحم کر۔(۱۸) لوگوں کی راز جوئی مت کر اور کسی کے گھر میں بغیر اُس کی اجازت کے اندر مت جا اور کسی شخص کو دھوکہ دینے کی نیت سے کوئی کام مت کر، دغا اور فریب اور نفاق سے دور رہ اور ہر ایک شخص سے صفا دلی سے معاملہ کر اور یتیموں اور ہمسایوں اور غریبوں خواہ رشتہ دار ہوں خواہ غیر تعلق والے ہوں اور ساتھ والے مسافروں اور راہ گیروں اور غلاموں پر مہربانی کرو۔خاکسار غلام احمد عفی اللہ عنہ