مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 47

ہو سکتا،نہ اس کے مساوی، یہ نظیر آپ کی بے محل ہے۔اگر آپ ذرا بھی غور کرتے تو ایسی نظیر کبھی نہ دیتے۔حضرت سلامت! یہ کون کہتا ہے کہ ممکنات کو عوارض خارجیہ میں باہم مشارکت اور مجانست نہیں۔امر متنازعہ فیہ تو یہ ہے کہ خصائص الٰہیہ میں کسی غیر اللہ کو بھی اشتراک ہے؟ یا صفات اُس کے اس کی ذات سے مخصوص ہیں؟ آپ مدعی اس امر متنازعہ کے ہیں اور نظیر ممکنات کی پیش کرتے ہیں جو خارج از بحث ہے، آپ امر متنازعہ کی کوئی نظیر دیں تب حجت تمام ہو ورنہ ممکنات کے تشارک تجانس سے یہ حجت تمام نہیں ہوتی۔نہ ذات باری کے خصائص کو ممکنات کے عوارض پر قیاس کرنا طریق دانشوری ہے۔علاوہ اس کے جو ممکنات میں بھی خصائص ہیں وہ بھی اُن کے ذوات سے مخصوص ہیں جیسا کہ انسان کی حدِّتام یہ ہے جو حیوان ناطق ہے اور ناطق ہونا انسان کے خصائص ذاتی میں سے اور اس کا فصل اور ممیز عن الغیر ہے یہ فصل اس کا نہیں کہ ضرور بینا بھی ہو اور آنکھ سے بھی دیکھتا ہو۔کیونکہ اگر انسان اندھا بھی ہو جائے تب بھی انسان ہے۔بلکہ انسان کے خصائص ذاتیہ سے وہ امر ہے جو بعد مفارقت روح کے بدن سے اس کے نفس میں بنا رہتا ہے۔ہاں یہ بات سچ ہے جو ممکنات میں اس وجہ سے جو وہ سب ترکیب عنصری میں متحد ہیں بعض حالات خارج از حقیقت تامہ ہیں، ایک دوسرے کی مشارکت بھی ہوتے ہیں جیسے انسان اور گھوڑا اور درخت کہ جوہرؔ اور صاحب ابعادِ ثلاثہؔ اور قوت نامیہؔ ہونے میں یہ تینوں شریک ہیں۔اور حساس اور متحرک بالارادہ ہونے میں انسان اور گھوڑا مشارکت رکھتے ہیں۔لیکن ماہیت تامہ ہر ایک کی جدا جدا ہے۔غرض یہ صفت عارضی ممکنات کی حقیقت تامہ پر زائد ہے جس میں کبھی تشارک اور کبھی تغائر ان کا ہو جاتا ہے اور باوصف مختلف الحقائق اور متغائر الماہیت ہونے کے کبھی کبھی بعض مشارکات میں ایک جنس کے تحت میں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ کسی ایک حقیقت کے لئے ایک اجناس ہوتے ہیں۔اور یہ بھی کچھ سمجھا کہ کیوں ایسا ہوتا ہے؟ یہ اس واسطے ہوتا ہے کہ ترکیب مادی ان کی اصل حقیقت اُن کے پر زائد ہے اور سب کی ترکیب مادی کا ایک ہی استقس یعنی اصل ہے۔اب آپ پر ظاہر ہوگا کہ یہ تشارک ممکنات کا خصائص ذاتیہ میں تشارک نہیں بلکہ عوارض خارجیہ میں اشتراک ہے۔باطنی آنکھ انسان کی جس کو بصیرت قلبی (این لائن منٹ۱؎) کہتے ہیں دوسرے حیوانات میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔۱؎ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔غالباً صحیح لفظ این لائٹ منٹ (Enlightment) ہے۔