مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 637 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 637

تمثل شیطان جائز ہے۔پس اس زمانہ کے لوگوں کے لئے زیارت حقّہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اُس زیارت کے ساتھ بعض ایسے خوارق اور علاماتِ خاصہ بھی ہوں جن کی وجہ سے اُس رؤیا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض بشارتیں پیش ازوقوع بتلا دیں یا بعض قضاو قدر کے نزول کی باتیں پیش از وقوع مطلع کر دیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلادیں جو پہلے قلمبند اور شائع نہیں ہو چکے تو بِلاشُبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی۔ورنہ اگر ایک شخص دعویٰ کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بیشک کافر اور دجّال ہے۔اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اُس خواب بین نے چالاکی کی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنا لی ہے۔سو اگر میر صاحب میں درحقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی خواب میں آجاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھادیں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کر دیں اور علاماتِ اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ سے اس بات کو بپایہ ثبوت پہنچادیں کہ درحقیقت اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کر لیں گے۔اور اگر اُنہیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو اُس سیدھے طور سے مقابلہ کریں جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے۔ہمیں بالفعل اُن کی رسول بینی میں ہی کلام ہے۔چہ جائیکہ اُن کی رسول نمائی کے دعویٰ کو قبول کیا جائے۔پہلا مرتبہ آزمائش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعویٰ میں صادق ہیں یا کاذب۔اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شائع کریں جس میں یہ بیان ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا۔پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں۔اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اس بات کے لئے بھی حاضر ہے کہ میر صاحب رسول نمائی کا عجوبہ بھی دکھلا دیں۔قادیان میں آجائیں۔مسجد موجود ہے۔اُن کے آنے جانے اور خوراک کا تمام خرچ اس عاجز کے ذمہ ہوگا اور یہ عاجز تمام ناظرین پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف لاف وگزاف