مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 585
ہیں۔کیونکہ اُن کے لکھے جانے پر عرصہ دراز گزر گیا ہے ناچار اس بندوبست کے لئے کچھ دن امرتسر ٹھہرنا پڑے گا اور دوسری طرف یہ ضرورت درپیش ہے کہ ۲۶؍ دسمبر ۱۸۸۳ء تک بعض احباب بطور مہمان قادیان میں آئیں گے اور اُن کیلئے اس خاکسار کا یہاں ہونا ضروری ہے سو یہ عاجز بنا چاری امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہے اور معلوم نہیں کہ کیاپیش آوے۔اگر زندگی اور فرصت اور توفیق ایزدی یاور ہوئی اور کچھ وقت میسر آ گیا تو انشاء اللہ القدیر ایک دن کے لئے امرتسر میں فراغت پا کر آںمخدوم کی طرف روانہ ہوں گا۔مگر وعدہ نہیں اور کچھ خبر نہیں کہ کیاہوگا اور خداوند کے فضل و کرم ربوبیت سے اس عاجز کو فرصت مل گئی تو آںمخدوم اس بات کو پہلے سے یادرکھیں کہ صرف ایک رات رہنے کی گنجائش ہوگی۔کیونکہ بشرط زندگی و خیریت کہ جو حضرت خداوندکریم کے ہاتھ میں ہے۔۲۶؍ دسمبر۱۸۸۳ء تک قادیان میں واپس آجانا ہے۔اُن سے وعدہ ہو چکا ہے۔وَالْاَمْرُکُلُّہٗ فِیْ یَدِ اللّٰہِاور ایک دن کے لئے آنا بھی ہنوز ایک خیال ہے وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ۔اگر خداوندکریم نے فرصت دی اور زندگی اور امن عطا کیا اور امرتسر کے مخمصہ سے صفائی اور راحت حاصل ہوئی اور تاریخ مقررہ پر واپس آنے کے لئے گنجائش بھی ہوئی تو یہ عاجز آنے سے کچھ فرق نہیں کرے گا۔مگر آپ ریل پر ہرگز تشریف نہ لاویں کہ یہ تکلّف ہے۔یہ احقرعباد سخت ناکارہ اور بے ہنر ہے اور اس لائق ہرگز نہیں کہ اس کے لئے کچھ تکلّف کیا جائے۔مولیٰ کریم کی ستّاریوں اور پردہ پوشیوں نے کچھ کا کچھ ظاہر کر رکھا ہے۔ورنہ من آنم کہ من دانم ۱۹؍ دسمبر ۱۸۸۳ء مطابق ۱۸؍ صفر ۱۳۰۱ھ مکتوب نمبر۳۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہُ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ہذا آںمخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔مجھ کو آپ کا اخلاص بہت شرمندہ کر رہا ہے۔خداوندکریم آپ کو بہت ہی اجر بخشے اور یہ عاجز تفضّلات الٰہیہ پر بہت بھروسہ رکھتا ہے اور یقینا سمجھتا ہے کہ اُس کی رحمتیں اس اخلاص اور سعی کے صلہ میں آثار نمایاں دکھلائیں گی۔یہ عالَم فانی تو کچھ چیز نہیں اور