مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 460
مولوی غلام دستگیر قصوری کا خط باسمہ سبحانہ از فقیر غلام دستگیر ہاشمی قصوری کان اللہ لہ بخدمت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بعد السلام علٰی من اتبع الھدٰی۔واضح ہو کہ رسائل اربعہ مرسلہ آپ کے فقیر کو پہنچے۔آپ نے جو اُن میں درخواست مباہلہ کر کے فقیر کو بھی مباہلہ کے لئے بلایا ہے۔سوفقیر بعدا ز استخارہ مسنونہ آپ کو اطلاع دیتا ہے کہ فقیر آپ کے ساتھ مباہلہ کے واسطے از تہ دل مستعد ہے۔آپ اب اس میں طوالت نہ کریں۔شعبان کے ابتدا میں لاہور آجائیں۔فقیر بھی امروز فردا لاہور پہنچ جاتا ہے۔اپنے دونوں فرزندوں کو لے کر اپنے عزیزوں سے مل کر فقیر سے مباہلہ کر لیں۔یہ قید کہ کم سے کم دس آدمی حاضرہوں جو صفحہ ۶۷ کی سطر ۱۶، ۱۷ میں درج ہے۔شرعاً بے اصل ہے۔لاہور کے مدعو مولویوں سے اگر کوئی صاحب فقیر سے شامل ہوئے تو فبہا۔ورنہ ایک ہی فقیر حاضر ہے۔آپ نے اگر پندرہ شعبان تک مباہلہ نہ کیا تو آپ کاذب متصور ہوں گے اور فقیر اس امر کو مشتہر کر دے گا۔فقط ٭ المرقوم ۲۹؍ رجب روز دو شنبہ ۱۳۱۴ء(۴؍جنوری ۱۸۹۷ء) از قصور مسجد کلاں یہ رقعہ چند معتبر شاہدوں کی شہادت سے آج رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں۔فقط گواہ نمبر۱: عبدالقادر وکیل مقیم قصور بقلم خود گواہ نمبر۲: حافظ سید محمد قصوری بقلم خود گواہ نمبر۳: شیخ محمد بخش ساکن قصور بقلم خود گواہ نمبر۴: مرزا عظیم الدین بقلم خود (اس کے بعد اور بھی کئی نام مرقوم ہیں۔جو پڑھے نہیں گئے ان کے آخر میں لکھا ہے۔مرتب)