مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 451
اور آپ نے اس پر دستخط کر دئیے او رراقم سراج الحق نعمانی و جمالی سرساوی لکھا گیا۔مجھے یہ خط مولوی رشید احمد صاحب کو لکھنا اس واسطے ضروری ہوا تھا کہ میں او رمولوی صاحب ہمزلف ہیں او رباوجود اس رشتہ ہمز لف ہونے کے تعارف اور ملاقات بھی تھی اور قصبہ سرساوہ او ر قصبہ گنگوہ ضلع سہارنپور میں ہیں اور ان دونوں قصبوں میں پندرہ کوس کا فاصلہ ہے اور ویسے برادرانہ تعلق بھی ہیں اور میری خوشد امن اور سسرال کے لوگ ان سے بعض مرید بھی ہیں۔بس یہ میرا خط مولوی صاحب کے پا س گنگوہ جانا تھا اور مولوی صاحب او ران کے معتقدین اور شاگردوں میں ایک شور برپا ہونا تھا اور لوگوں کو ٹال دینا تو آسان تھا۔لیکن اس خاکسار کوکیسے ٹالتے اور کیا بات بتاتے بجز اس کے کہ مباحثہ کو قبول کرتے۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ مخدوم مکرم پیر سراج الحق صاحب! پہلے میں اس بات کا افسوس کرتا ہوں کہ تم مرزا کے پا س کہاں پھنس گئے۔تمہارے خاندان گھرانے میں کس چیز کی کمی تھی اور میں بحث کو مرزا سے منظور کرتا ہوں لیکن تقریری اور صرف زبانی۔تحریر مجھ کو ہر گز منظور نہیں اور عام جلسہ میں بحث ہو گی او روفات و حیات مسیح میں کہ یہ فرع ہے، بحث نہیں ہو گی بلکہ بحث نزول مسیح میں ہو گی جو اصل ہے۔کتبہ رشید احمد گنگوہی۔یہ خط مولوی صاحب کا حضرت اقدس علیہ السلام کو دکھلایا۔فرمایا خیر شکر ہے کہ اتنا تو تمہارے لکھنے سے اقرار کیا کہ مباحثہ کے لئے تیار ہوں، گو تقریرسہی ورنہ اتنا بھی کہیںکرتے تھے؟ اب اس جواب میں یہ لکھ دوکہ مباحثہ میں خلط مبحث کرنا درست نہیں، بحث تحریری ہونی چاہئے تاکہ غائبین کو بھی سوائے حاضرین کے پورا پورا حال معلوم ہو جائے اور تحریر میں خلط مبحث نہیں ہوتا او ر زبانی تقریر میں ہو جاتا ہے۔تقریر کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور نہ اس کا اثر کسی پر پڑتا ہے اور نہ پورے طور سے یا درہ سکتی ہے اور تقریر میں ایسا ہونا ممکن ہے کہ ایک بات کہہ کر اور زبان سے نکال کر پھر جانے اور مکر جانے کا موقع مل سکتا ہے اور بعد بحث کے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا اور ہر ایک کے معتقد کچھ کا کچھ بنا لیتے ہیں کہ جس سے حق و باطل میں التباس ہو جاتا ہے اور تحریر میں یہ فائدہ ہے کہ اس میں کسی کو کمی بیشی کرنے یا غلط بات مشہور کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے اور آپ جو فرماتے ہیں کہ مباحثہ اصل میں نزول مسیح پرہونا چاہئے۔سوا