مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 438
پُرانے اور مشہور عقیدہ کو خیر باد کہہ دیںگے تو پھر اس صورت اور حالت میں حامیانِ دین متین کو سخت تر مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ہم لوگوں نے جن کی طرف سے یہ درخواست ہے اپنی تسلی کیلئے خصوصاً اور عامہ اہلِ اسلام کے فائدہ کے لئے عموماً کمال نیک نیتی سے بڑی جدوجہد کے بعد ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مولوی حکیم نورالدین صاحب کے ساتھ (جو مرزا صاحب کے مخلص معتقدین میں سے ہیں) مرزا صاحب کے دعاوی پر گفتگو کرنے کے لئے مجبور کیا تھا۔مگر نہایت ہی حیرت ہے یہ کہ ہماری بد قسمتی سے ہمارے منشاء اور مدّعا کے خلاف مولوی ابو سعید صاحب نے مرز اصاحب کے دعوئوں سے جو اصل مضمون بحث تھا، قطع نظر کر کے غیر مفید امور میں بحث شروع کر دی۔جس کا نتیجہ یہ ہو اکہ متردّدین کے شبہات کو اور تقویت ہوگئی اورزیادہ تر حیرت میں مبتلا ہو گئے۔اس کے بعد لودہیانہ میں مولوی ابو سعید صاحب کو خود مرزا صاحب سے بحث کرنے کا اتفاق ہوا۔تیراں روز گفتگو ہوتی رہی۔اس کا نتیجہ بھی ہمارے خیال میں وہی ہوا جو لاہور کی بحث سے ہوا تھا۔بلکہ اس سے بھی زیادہ تر مضر۔کیونکہ مولوی صاحب اس دفعہ بھی مرزا صاحب کے اصل دعاوی کی طرف ہرگز نہ گئے۔اگرچہ جیسا کہ سنا گیا ہے اور پایہ اثبات کوبھی پہنچ گیا ہے۔مرزا صاحب نے اثنائے بحث میں بار ہا اپنے دعوئوں کی طرف مولوی صاحب کو متوجہ کرنے کی سعی کی۔چونکہ علماء وقت کے سکوت اور بعض بے سُود تقریر و تحریر نے مسلمانوں کو علی العموم بڑی حیرت اور اضطراب میں ڈال رکھا ہے اور اس کے سوا ان کو اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنے اما مانِ دین کی طرف ر جوع کریں۔لہٰذا ہم سب لوگ آپ کی خدمت میں نہایت مؤدبانہ اور محض بنظر خیر خواہی برادرانِ اسلام درخواست کرتے ہیںکہ آپ اس فتنہ و فساد کے وقت میدان میں نکلیں ا ور اپنے خداداد نعمت علم اور فضل سے کام لیں اور خداکے واسطے مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعاوی پر بحث کر کے مسلمانوں کو ورطہئِ تذبذب سے نکالنے کی سعی فرما کر عندالناس مشکور و عنداللہ ماجور ہوں۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ جن کی ذات پر مسلمانوں کو بھروسہ ہے، خاص لاہور میں مرزا صاحب کے ساتھ ان کے دعوٰے میں بالمشافہ تحریری بحث کریں۔مرزا صاحب سے ان کے دعوٰے کا ثبوت کتاب اللہ او ر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا جاوے یا ان کو اس قسم کے دلائلِ بیّنہ سے توڑا