مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 434
جاتے ہیں۔ایسے وقت میں، جس میں ہزار ہا مسلمان کا ایمان تلف ہو، اگر بزرگانِ دین اور علماء اہل یقین، کام نہ آئے تو کب آئیںگے؟ ہاں ہم نے مرزا غلام احمد صاحب سے قسم کھا کر یہ بھی وعدہ کر لیا ہے کہ اگر (جن کے نام خط ہے) اس بحث کے لئے تشریف نہ لائے۔تو پھر یہ بات پنجاب اور ہندوستان کے اخباروں میں چھپوا دیں گے کہ وہ گریز کر گئے اور وہ حق پر نہیں ہیں۔لہٰذا ہم سب لوگ ادب سے اور عاجزی سے آپ کی خدمت میں خواستگار ہیںکہ آپ حسبۃً للہ اس کام کے لئے ضرور تشریف لاویں اور مسلمانوں کو فتنہ سے بچا ویں۔ورنہ اگر آپ تشریف نہ لائے تو ناچار ایفائے عہد کے لئے آپ کا گریز کرنا حتی الوسع تمام اخباروں میں شائع کر دیا جائے گا۔اسی طرح اگر مرزا غلام احمد صاحب نے گریز کی تو اس سے دس حصہ زیادہ اخباروں کے ذریعہ سے ان کی قلعی کھولی جائے گی۔اورہمیں یقینی طور پر امید ہے کہ آپ دونوں طور کی بحث کے لئے ضرور تشریف لے آئیں گے اور قیامت کی باز پرس سے اپنے آپ کو بچائیںگے۔لہٰذا ہم نے ایک ایک نقل اسی درخواست کی چند اخباروں میں بھی بھیج دی ہے اورآخری نتیجہ کا مضمون جو کچھ بعد اس کے ہو گا، چھپنے کے لئے بھیجا جائے گا۔آپ جلد تشریف لاویں۔سب مخلصین منتظر ہیں۔ہم آپ کے جواب کی۔آج کی تاریخ سے کہ ۱۸؍ محرم الحرام ۱۳۰۹ھ مطابق ۲۴؍ اگست ۱۸۹۱ء ہے۔ایک ماہ تک انتظار کریں گے۔اگر اس عرصہ تک خدانخواستہ آپ تشریف نہ لائیں تو ناچار عہد کے موافق کلماتِ حقّہ آپ کی نسبت شائع کر دئیے جائیںگے اور واضح رہے کہ ہم تین فریق کے آدمی ہیں۔بعض ہم میں سے مرزا صاحب کے مرید ہیں اوربعض حسن ظن رکھنے والے اور بعض نہ حسن ظن رکھنے والے اور نہ مرید ہیں۔لیکن ہم سب حق کے طالب ہیں۔اَلْحَقُّ حَقٌّ۔والسلام ابو اللمعان سراج الحق جمالی نعمانی سرساوی سرج اللہ وجہ۔شیخ نور محمد ہانسوی۔شیخ عبدالحق لودیانوی۔قاضی خواجہ علی ٹھیکیدار شکرم۔محمد خاں ساکن کپور تھلہ۔حافظ حامد علی لودہیانوی۔سید عباس علی صوفی۔مولوی محمود حسن مدرس۔منشی محمد اروڑا نقشہ نویس ساکن کپور تھلہ۔منشی فیاض علی۔منشی ظفر احمد اپیل نویس ساکن کپور تھلہ۔منشی عبدالرحمن اہلمد جرنیلی کپور تھلہ۔منشی حبیب الرحمن برادر زادہ حاجی ولی محمد صاحب جج مرحوم ساکن کپور تھلہ۔مستری جان محمد۔سردار خاں